خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 523 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 523

خطبات طاہر جلد 13 523 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 1994ء اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو۔مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ تمہیں ہم اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے کہ ان جھوٹے خداؤں کو گالیاں دو جن کو وہ خدا کے سوا معبود بنائے بیٹھے ہیں یہ اللہ کی تعلیم ہے۔اس کے مقابل پر ملاں کی بد بخت تعلیم کے منہ پر تھوکنے کو بھی دل نہیں چاہتا۔کتنی عظیم تعلیم ہے، مسلمانوں کو روکا جارہا ہے کہ تمہارا فرض ہے کہ جس کو کوئی خدا سمجھتا ہے اس سے بحث نہیں ہے کہ وہ سچا ہے کہ جھوٹا ہے، ہم جانتے ہیں کہ وہ جھوٹا ہے، ہم تمہیں اجازت نہیں دیتے کہ ان جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں دو۔نتیجہ پھر کیا نکلے گا فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ پھر ان کو حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ اللہ کو گالیاں دیں اور علم نہ ہو کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔پس روکا ہے تو مسلمانوں کو روکا ہے۔غیروں کو نہ روکا ہے نہ ان کے لئے کوئی سزا مقرر فرمائی ہے بلکہ یہ کہا کہ اگر تم ایسا کرو گے تو غیروں کو حق حاصل ہو جائے گا۔ایک عقلی انسانی سطح پر حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ بھی جوابی کارروائی کریں تم جھوٹے خدا کو گالیاں دے کر اپنے منہ گندے کرو گے اور اس سے ان خداؤں کو کچھ پہنچے گا بھی نہیں۔وہ ہیں ہی نہیں۔جو فضا میں چیز ہی نہیں اس پر فائر کرنے سے وہ مرے گی کہاں سے۔لیکن تم اپنے خدا پر وہ فائر کروالو گے۔اسے ان کی بدبختیوں کے تیروں کا نشانہ بنا دو گے۔پس کتنی پاکیزہ کتنی گہری، کتنی عقل پر مبنی تعلیم ہے۔نہ قوم کو پتا، نہ مولویوں سے اس قسم کے سوال کئے جاتے ہیں بلکہ ڈر کے مارے جان نکلی جاتی ہے۔اوہو! ہو! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا کی اور رسولوں کی عزت کا معاملہ ہو اور ہم کوئی اور کا رروائی کر بیٹھیں۔پتا ہی نہیں عزت ہوتی کیا ہے۔پتانہیں قرآن کیا کہہ رہا ہے۔اللہ کے حوالے سے بات شروع ہونی چاہئے قرآن نے اللہ ہی کے حوالے سے بات شروع کی ہے اور یہ تعلیم دی ہے اب یہ سوال ہے کہ ہیں تو وہ جھوٹے ، ہم تو جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں، تو پھر خدا یہ کیوں کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کہنا۔وجہ بیان فرمائی كَذَلِكَ زَيَّنَا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ کہ تم لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ نفسیاتی لحاظ سے ہر شخص اپنے اعمال کو اچھا سمجھ رہا ہوتا ہے۔وہ لوگ جو جھوٹے خداؤں کی عبادت کرتے ہیں ان کے دل میں واقعی ان خداؤں کی محبت ہوتی ہے اور ہر شخص اپنے عمل اور اپنے عقیدے کو خوب صورت بنا کے دیکھ رہا ہوتا ہے پس اگر وہ لوگ جو ان کو بد نظر سے دیکھتے ہیں یا حقیقت میں مکر وہ سمجھتے ہیں وہ ان پر کھلے حملے کرنے شروع کریں تو مذہب کی دنیا میں ایک عام خانہ جنگی شروع ہو جائے گی جس کا کوئی