خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 512 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 512

خطبات طاہر جلد 13 512 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 / جولائی 1994ء فَإِنَّهُ مُلقِيكُمُ کہ اے موت سے بھاگنے والو اور فرار اختیار کرنے والو! یاد رکھوموت سے تم نہیں بھاگ سکتے۔تمہارے اعلان کے نتیجے میں جلدی آ جائے یا تم اپنی اجل مسمی تک پہنچائے جاؤ جو صورت بھی ہو گی تم نے لازما خدا کے حضور حاضر ہونا ہے پھر کیا ہوگا ثُم تُرَدُّونَ إلى علمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اس خدا کے حضور حاضر ہو گے جو غیب کو بھی جانتا ہے اور حاضر کو بھی جانتا ہے فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ تمہیں وہ خوب اچھی طرح سے باخبر کر دے گا ان باتوں سے جو تم کیا کرتے تھے۔یہ وہ مضمون ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مذہبی قوموں کے انحطاط کی تاریخ کا خلاصہ ہے لیکن ایسا خلاصہ جو ہر پہلو پر حاوی ہے۔یہ اد بار کئی طرح سے قوم کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے۔آج کل جو آپ آئے دن ایسے ہنگاموں کی باتیں سنتے ہیں جن میں انبیاء کی عصمت اور عزت اور احترام کے نام پر بنائے جانے والے قانون پر زیر بحث ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ عصمت انبیاء اور خصوصاً آنحضرت ﷺ کی ہتک اور گستاخی کے نتیجے میں جو موت کی سزا پاکستان میں مقرر کی گئی ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی۔گویا محض اللہ یہ کاروائی تھی اور اس کے خلاف کوئی حرکت کوئی قانون، کوئی کوشش قابل برداشت نہیں، یہ جو ہنگامہ آرائیاں پاکستان میں ہوتی رہی ہیں اور بنگلہ دیش میں بھی چلائی جارہی ہیں اور بعض ملکوں میں بھی یہ تحریک اسی طرح آہستہ آہستہ آگے بڑھائی جائے گی۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس کے تمام پہلوؤں پر ایک خطبات کے سلسلے میں روشنی ڈالوں۔متفرق مواقع پر سوال و جواب کی مجالس میں یہ باتیں زیر بحث لائی جا چکی ہیں۔جب سلمان رشدی کا قصہ ہوا تھا اس وقت بھی جماعت کے موقف کے طور پر میں نے یہ باتیں بیان کی تھیں۔مگر میں چاہتا ہوں کہ قوم پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک دفعہ اس مضمون کے ہر پہلو سے پردہ اٹھا دوں تا کہ بات اتنی کھل جائے کہ کوئی شخص پھر خدا کے حضور یہ عذر نہ پیش کر سکے کہ ہمیں معاملے کی سمجھ نہیں آئی تھی ، ہم تو ان باتوں سے واقف نہیں تھے۔پہلی بات تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا اس آیت کریمہ سے گہرا تعلق ہے وہ قومیں جو ذاتی مذہبی علم نہیں رکھتیں یعنی مذہبی علم سے بے اعتنائی کے نتیجے میں اس علم کی طرف توجہ ہی نہیں رہتی اور عامتہ الناس الگ ہو جاتے ہیں اور مولوی ، ملا نے الگ ہو جاتے ہیں۔قوم کے دو