خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 500 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 500

خطبات طاہر جلد 13 500 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 / جولائی 1994ء خدا تعالیٰ کے ہاں یہ منظور نہیں تھا کہ آنحضور ﷺ اس شدید مصروفیت کے وقت پانچ نمازیں الگ الگ پڑھ سکیں۔پس ایک ایسے ہی موقع پر آنحضرت ﷺ نے پانچ نمازیں اکٹھی ایک دوسری کے بعد باجماعت پڑھائیں اور سب رفقائے کار نے اس میں شرکت کی ، سب صحابہ نے شرکت کی ، اور وہ موقع ہے جب آپ نے ان ظالموں کو بددعا دی کہ لعنت ہو ان پر جن کی وجہ سے ہمیں نمازیں وقت کے بعد پڑھنی پڑیں۔ورنہ آنحضور ﷺ کے منہ سے بددعا کے کلمات نہیں نکلا کرتے تھے۔اس سے بھی وقت پر نماز پڑھنے اور باجماعت پڑھنے کی اہمیت کا آپ کو اندازہ ہوگا مگر مرور زمانہ سے رفتہ رفتہ مسلمانوں میں سے باجماعت نماز کے اہتمام کا تصور مٹتا جارہا ہے اور انفرادی نماز ہی کو کافی سمجھا جاتا ہے۔جہاں انفرادی نماز کو کافی سمجھا جائے وہاں انفرادی نماز بھی رفتہ رفتہ اٹھنا شروع ہو جاتی ہے اور معاشرے میں انفرادی نماز ادا کرنے والے بھی تھوڑے رہ جاتے ہیں کیونکہ در حقیقت انفرادی نماز کی باجماعت نماز حفاظت کرتی ہے۔اگر باجماعت نماز کو اہمیت دی جائے اور شدت سے قائم کیا جائے تو نماز قائم کرنے کا دوسرا مفہوم بھی اس میں داخل ہے۔اول قیام نماز سے مراد یہ ہے کہ با جماعت نماز پڑھی جائے۔اصل حق عبادت کا تب ادا ہوتا ہے کہ تمام جماعت مل کر خدا کے حضور حاضر ہواوراسی پہلو سے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین میں ہم" کے لفظ سے خدا کے حضور گزارش کی جاتی ہے جس میں باجماعت کا تصور شامل اور داخل ہے ورنہ انفرادی نماز میں تو ايَّاكَ اَعْبُدُ وَإِيَّاكَ اَسْتَعِينُ کہا جاسکتا تھا۔پس باجماعت نماز ایک گہرا فلسفہ رکھتی ہے اور یہ وہ طریق عبادت ہے جس کے نتیجے میں حقیقت میں عبادت خدا کے حضور قائم ہوتی ہے۔اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہے۔دوسرا مفہوم قیام عبادت کا میں نے جیسا کہ اشارہ کیا ہے وہ یہ تھا کہ عبادت کے باجماعت ادا کرنے سے انفرادی عبادت کو تقویت ملتی ہے اور وہ بھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہے کیونکہ جتنے باجماعت نماز پڑھنے والے ہیں وہ گھروں سے رخصت ہوتے وقت بھی گھروں میں عبادت کر کے جاتے ہیں۔واپس آتے وقت بھی ایک معین وقت پر عبادت کرتے ہیں اور وہ خاص ایسے معین وقت ہیں جبکہ اہل خانہ اور بچے ان کو دیکھتے ہیں اور نمازوں کی اہمیت ان کے دلوں میں جاگزیں ہو جاتی ہے۔جولوگ باجماعت نماز کے لئے پانچ وقت گھروں کو نہیں چھوڑتے وہ انفرادی طور پر پڑھتے بھی ہیں تو اپنی مرضی اور اپنے وقت سے پڑھتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ایک خاندان والے اس کو خصوصیت سے