خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 496
خطبات طاہر جلد 13 496 خطبہ جمعہ فرمود : 8 / جولائی 1994ء اپنے فضل سے ایسے اعلیٰ اور پاک نمونے دکھانے اور قائم کرنے کی توفیق بخشے کہ تمام دنیا میں یہ آنے والے آپ کی محبت کی یادیں لے کر جائیں اور وہاں ایسے تذکرے کریں جن کے نتیجے میں ہر ملک میں جہاں نمائندگی ہو آپ کے انداز سیکھنے کی خواہش نہ صرف پیدا ہو بلکہ اس پر عمل کے پاک نمونے یہاں سے وہاں پہنچیں اور وہاں بھی ایسی ہی روایات کو فروغ ملے۔ہر آنے والا جو مختلف ممالک سے آتا ہے اس میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے طور پر آتے ہیں اور اکثریت ایسوں کی ہے لیکن کچھ ایسے ہیں جو باقاعدہ جماعت کی نمائندگی میں یہاں آتے ہیں۔جو لوگ جماعت کی نمائندگی میں یہاں آتے ہیں ان کو میری نصیحت ہے کہ پہلے سے اس بات کی تیاری کر کے آئیں کہ جولوگ ان کے ملکوں کی نمائندگی کر رہے ہیں ان کو بھی اخلاقی ضابطوں کے لحاظ سے اعلیٰ نمونہ دکھانے کی تلقین کریں اور ملکی نمائندہ جو بھی امیر کی طرف سے مقرر ہو ان ملکوں کے باشندے یہاں بھی ان کی اطاعت میں رہیں۔اگر چہ یہ اطاعت ایک قسم کے جزوی دائرے میں ہوگی مگر اس کے باوجود ایسا ہوناممکن ہے۔یہ مراد نہیں کہ ان کے امیر کا جو نمائندہ یہاں مقرر ہو گا تمام اس ملک کے آنے والے ان کے تو ماتحت ہوں گے لیکن مقامی امیر سے آزاد ہوں گے۔اس کا کوئی تصور اسلام میں یا نظام جماعت میں موجود نہیں۔وہ تمام تر جس ملک میں جاتے ہیں اس ملک کی امارت کے تابع رہتے ہیں اور ان سے تعاون کرنا ان کا اولین فرض بن جاتا ہے لیکن جیسے ایک امیر کے تابع بہت سے شہر، بہت سی جماعتیں ہوتی ہیں اور اپنے دائرہ کار میں وہ اپنے اپنے صدر یا اگر امیر ہے تو اس امیر کے تابع ہوتے ہیں اسی طرح جلسے پر آنے والے بھی اپنے دائرہ کار میں اپنے امیر کے تابع ہوتے ہیں مگر نظام جماعت کی عمومیت کے اعتبار سے وہ تمام کلیۂ مقامی امیر یعنی ملک کے امیر کے تابع رہتے ہیں اور یہی نظام ہے جو انشاء اللہ ہمیشہ جاری رہے گا۔پس اندرونی تنظیم کی خاطر ایک دوسرے کے اخلاق پر نظر رکھنے کے لئے ، ایک دوسرے کو اعلیٰ خلق کی تعلیم دینے کے لئے یہ ایک نیا پہلو ہے جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔تمام جلسے پر آنے والے اپنے اپنے ملک کے نمائندہ کے زیر نگرانی اپنے آپ کو منظم رکھیں اور آپس میں نیک مشوروں کے لئے بھی بے شک وقت نکالیں تا کہ اس جلسے پر جو کچھ وہ سیکھیں واپس جا کر اپنے ملک میں اسے رائج کرنے کے لئے منظم طریق پر وہ ان باتوں کو دائرہ تحریر میں لائیں اور باقاعدہ ان کی طرف سے واپسی پر اپنے ملک کی مجلس عاملہ کے سامنے رپورٹ پیش ہو۔اگر چہ بڑے بڑے ممالک