خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 492

خطبات طاہر جلد 13 492 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 جولائی 1994ء دے دیا اور ان کے خاندانوں کو بلوانے کا حق دے دیا۔اس پہلو سے بکثرت ملاقاتیں ایسے لوگوں سے تھیں جن سے گزشتہ دس گیارہ سال سے ملنے کا موقع نہیں ملا تھا اور کینیڈا کے جلسے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دونوں طرف کی دیرینہ ضرورت پوری ہوگئی۔تربیتی لحاظ سے کینیڈا میں جو ضرورتیں ہیں ان کا ایک حصہ تو صرف دورے کے نتیجے میں ہی خود بخود پورا ہو جاتا ہے۔وہ نئی نسل کے نوجوان جو کچھ عرصہ بیرونی فضا میں دم لینے کی وجہ سے کسی حد تک اگر نہیں تو کچھ نہ کچھ متاثر ضرور ہو جاتے ہیں۔جب ان سے دوروں کے وقت ملاقاتیں ہوتی ہیں، جلسوں میں وہ ذوق و شوق سے حصہ لیتے ہیں تو وہ سارے زنگ جو بیرونی فضا کے ان پر لگے ہوتے ہیں وہ خود بخود دھل جاتے ہیں اور دھلے دھلائے نئے پاک چہرے نمایاں ہو جاتے ہیں ، کوئی کدورت باقی نہیں رہتی۔یہ تو ایک عمومی فائدہ ہے جو دوروں کے نتیجے میں پہنچتا ہی ہے۔اس کے علاوہ نئی نسلوں کا سوال و جواب کا موقع ملتا ہے اور اس دفعہ مثلا خصوصیت سے ہم نے بچیوں کے سوال و جواب کی جو مجلس رکھی تھی وہ بہت ہی مفید رہی۔میرے لئے اس لحاظ سے کہ مجھے نئی نسل کی احمدی بچیوں کے سوالات کو بذات خود سننے کا موقع ملا اور نفسیاتی لحاظ سے جو مسائل ہیں ان کو سمجھنے کا موقع ملا۔ان کے لئے اس لحاظ سے کہ وہ باتیں جو بسا اوقات ان کے ماں باپ بھی ان کو سمجھاتے تھے اور سمجھ نہیں سکتی تھیں وہ مجھ سے جواب سننے کے بعد نہ صرف ان کے چہروں سے اطمینان ظاہر ہوتا تھا بلکہ آپس میں جب انہوں نے باتیں کیں اور وہ باتیں مجھ تک پہنچیں تو یہ معلوم کر کے دل اللہ تعالیٰ کے شکر سے لبریز ہو گیا کہ وہ تمام سوال کرنے والیاں بھی اور جو نہیں سوال کر سکتی تھیں ان سب کو خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری طرح جوابوں سے تسلی ہوئی اور اسلام کی حقانیت پر دل پہلے سے بڑھ کر مطمئن ہوا۔میں نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ میں سے وہ بچیاں جو پہلے سے سوال لے کر بیٹھی ہوئی تھیں اور وقت کی کمی کی وجہ سے وہ سوال نہیں کئے جاسکے، تقریبا دو گھنٹے وہ مجلس رہی لیکن اس کے باوجود بہت سے سوال باقی دکھائی دے رہے تھے کیونکہ بچیوں کی قطار ابھی باقی تھی کہ وقت ختم ہو گیا۔ان سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آپ یہاں بھجوا دیں تو انٹرنیشنل ٹیلی ویژن کے ذریعے ہم انشاءاللہ ان سوالات کے جواب دیں گے اور آئندہ بھی تمام دنیا کے احمدیوں کو میری نصیحت ہے کہ اپنی نئی نسل کے لڑکوں اور لڑکیوں کے سوالات خصوصیت سے یہاں بھجوا دیا کریں تا کہ ایک عالمی مجلس