خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 487
خطبات طاہر جلد 13 487 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جون 1994ء شمن ہیں دوسروں کے لئے کہ ہر وقت ان کی برائی کی ٹوہ میں لگے رہیں تو ان کا نتیجہ لا زما جھوٹ ہوتا ہے اور اسی لئے قرآن کریم فرماتا ہے کہ بدظنی سے بچو۔اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِ اِثْ (الحجرات: 13 ) وہ اثم والا جو ظن ہے وہ بدظنی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا جھوٹ ہے۔فرمایا جب تم جھوٹ تک پہنچو گے اور جھوٹے نتیجے نکالو گے تو خدا کے نزدیک پکڑے جاؤ گے اور گناہ میں مبتلا ہو گے۔پس محبتوں کو زائل کرنے والی اور برباد کر دینے والی ایک عادت ہے جو نظام پر بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔بسا اوقات جب جماعتوں میں اختلاف پیدا ہوتے ہیں بعض دفعہ لڑائیاں ہو جاتی ہیں۔میں جب تحقیق کرواتا ہوں تو پتا چلتا ہے کہ فلاں نے فلاں کام فلاں صدر نے اس لئے کیا تھا کہ وہ اپنے عزیز کو یہ فائدہ پہنچا دے۔فلاں نے فلاں کام اس لئے کیا تھا کہ اس کے کسی دوست کو زیادہ ووٹ مل جائیں۔ایسی جاہلانہ باتیں، ایسے پاگلوں والے قصے، گھر بیٹھا کوئی پاگل اپنے دماغ میں ایسی باتیں سوچتا رہتا ہے اور پھر نظام سے ناراض ہوا ہوا ، دُور ہٹا ہوا کہ ہم بھی پھر مقابل پہ یوں کریں گے حالانکہ جب تحقیق کی جاتی ہے تو اصل آدمی کے فرشتوں کو بھی نہیں پتا کہ کیا ہو رہا ہے۔وہ اپنا سادگی سے، معصوم طریق پر ذمہ داریوں کو ادا کر رہا ہے۔ایک بیٹھا بدظنیوں کی گس گھولتا چلا جا رہا ہے۔ایسے لوگ تو افعی مزاج بن جاتے ہیں ، سانپ بھی اسی طرح گس گھولتا رہتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جہاں محبتوں کی تعلیم دی وہاں محبتوں کو ہلاک کر دینے والی خصلتوں کی بھی نشاندہی فرمائی۔فرمایا اول یہ ہے کہ بدظنی سے بچو اگر تم بدظنی میں مبتلا ہوئے تو نہ تمہارے گھر کے رشتے قائم رہ سکتے ہیں نہ تمہاری سوسائٹی کے رشتے قائم رہ سکتے ہیں۔اگر کسی میں نقص ہے تو خدا پر چھوڑ دو۔کیا ضرورت ہے اس کی تلاش کرو اور پھر بغیر گواہی کے، بغیر دیکھے اندازہ لگالینا اور اس پر اپنا مزاج بگاڑ لینا اور کسی معصوم کوطعن و تشنیع کا نشانہ بنانا بہت بڑا گناہ ہے۔فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔بدظنی کی عادت بغض کو چاہتی ہے بغض کے نتیجے میں بدظنیاں پیدا ہوتی ہیں اور باطنی کے نتیجے میں لازما بغض بڑھتے ہیں اور ایک اور چیز بیان فرمائی جس کا بظاہر اس سے تعلق نہیں ہے۔وہ یہ ہے کہ اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دیا کرو۔دراصل فطرت کی جو کجی بیان ہو رہی ہے اس کا اسی سے تعلق ہے۔ایک انسان جب کسی اچھے رشتے کے متعلق پتا کرتا