خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 43
خطبات طاہر جلد 13 43 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 /جنوری 1994ء اسے دوسری چیزوں سے ممتاز کر دیتی ہے۔اب جب آپ زندگی کے ارتقاء پر غور کریں تو آپ یہ معلوم کر کے حیران رہ جائیں گے کہ تمام تر ارتقاء اس ان کے گرد گھوم رہا ہے۔شروع میں لاشعوری طور پر اور پھر انسانی سطح پر پہنچ کر شعوری حالت میں۔یہ مضمون چونکہ بہت گہرا اور بہت ہی وسیع ہے۔اس لئے میں نے اشارۃ ذکر کیا تھا۔اب بھی اس مضمون کے تمام تر پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کرنے کا وقت نہیں ہوگا۔میں اسی جگہ سے شروع کرتا ہوں جہاں میں نے بات ، جہاں میں نے بات پچھلے جمعے میں ختم کی تھی کہ ہم اپنی لذات کو اگر تجزیہ کرتے ہوئے آغاز تک پہنچانے کی کوشش کریں۔تو معلوم ہوگا کہ ہر لذت کا منبع احساس وجود یعنی ”انا“ ہے۔ہم زندگی میں پھیلنا چاہتے ہیں اور یہ پھیلنا آغاز میں وجود کے پھیلنے کے ذریعے تھا۔اس وجود کو زیادہ سے زیادہ تقویت دینا چاہتے ہیں۔اور ان دونوں باتوں کی سیری کے لئے ، ان دونوں باتوں کی سیرابی کی خاطر ہمیں زندگی میں ہر مقام پر دوسری چیزوں کی احتیاج رہتی ہے۔اور یہ احتیاج کئی طریق سے پوری ہوتی ہے۔مثلاً ہر زندہ چیز اپنے ماحول سے کوئی چیز لیتی ہے جس کو ہم کھانا کہتے ہیں کوئی چیز اخذ کرتی ہے، جسے پینا بھی کہا جاتا ہے اور جو کچھ لیتی ہے خواہ وہ کسی شکل میں بھی ہو اس میں سے کچھ حصوں کا انتخاب کرتی ہے اور وہ جو اس کی بقاء کے لئے ، اس کی بنیادی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کافی ہو اس میں اس کو مزا آنا شروع ہو جاتا ہے۔پس اصل لذت بقاء میں ہے اور اپنے وجود کے پھیلنے میں ہے۔اپنی نشو ونما میں ہے۔آغاز میں ہمیں اس کے لئے کوئی الگ الگ بڑ زیا سیل دکھائی نہیں دیتے۔زندگی کے آغاز میں ایک مبہم سا خیال ہے کہ مجھے مزا آ رہا ہے۔لیکن اس مزے کی تکمیل کے لئے زندگی نے ابھی بہت سفر کرنا ہے اور مختلف ذرات میں مختلف اجزاء نے نہ صرف اندرونی طور پر ترقی کرنی ہے بلکہ باہمی رشتوں میں بھی ترقی کرنی ہے۔پس اب دیکھیں جس چیز کو ہم مزہ کہتے ہیں، منہ کا مزہ، اس میں کچھ Buds ہیں۔ان Buds کے ذریعے ہم نمک محسوس کر لیتے ہیں۔کڑواہٹ محسوس کر لیتے ہیں۔مٹھاس محسوس کر لیتے ہیں۔اور ان کا تعلق صرف ناک کے Buds سے ہے جن سے ہم خوشبو محسوس کرتے ہیں۔پھر لمس کے ساتھ تعلق ہے، جو چیز نرم ہے یا سخت ہے۔Crish ہے یائو گی ، ایسی ہے جو چیٹ کے ساتھ ٹوٹتی