خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 480 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 480

خطبات طاہر جلد 13 480 خطبہ جمعہ فرموده 24 جون 1994ء مرتے ہیں تو بہنوں کے حق مار کر بیٹھ جاتے ہیں۔وراثت میں ان کو شریک کرنے کی ہمت نہیں پاتے۔اگر قریبی رشتہ دار ایک دوسرے سے بڑھ کر حق ادا کرنے کی بجائے ان کے اپنے حق چھیننے میں کوشاں رہتے ہیں۔اگر ایک آدمی دوسرے شریک کے مال پر نظر رکھتا ہے۔جب تک آمد نیں زیادہ ہوتی رہیں خاموشی کے ساتھ گزارے چلتے رہیں۔جہاں ابتلا آیا جہاں نقصان کا خطرہ ہوا وہاں شریک نے کوشش کی کہ جتنا سمیٹ سکتا ہوں میں سمیٹ لوں اور اس سے الگ ہو جاؤں۔جہاں یہ حالات دکھائی دیں وہاں اللہ کی محبت کی باتیں کرنے کا حق ہی کوئی نہیں۔یہ بہت دور کی باتیں ہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے زمین پر چلنا نہیں آیا اور آسمان پر چھلانگیں لگانے کے خواب دیکھ رہے ہوں۔پس یہ وہ روزمرہ کی سادہ باتیں ہیں جو محمدرسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے عمل سے سکھائی ہیں۔ایسے عظیم کردار کا نمونہ دکھایا ہے جو زمین کے ساتھ بھی جڑا ہوا تھا لیکن آسمان سے بھی باتیں کر رہا تھا فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ (النجم:10) آپ بلند ہوئے تو خدا تک جاپہنچے۔اتنا قریب ہوئے کہ اس سے پہلے کبھی کسی مخلوق کو یہ توفیق نہ ملی تھی نہ آئندہ کبھی ملے گی لیکن دنیا پر پھر جھک آئے اور اس طرح بنی نوع انسان اور خدا کے درمیان وسیلہ بن گئے جس کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے۔پس بلندی کی باتیں تو ہوں گی لیکن پہلے زمین کے تقاضے تو پورے کر لو۔روزمرہ کے اخلاق درست کئے بغیر تم اس بات کا حق نہیں رکھتے کہ خلق آخر کی باتیں کرو اور تم ابھی خلق آخر کے میدان میں داخل کئے جاچکے ہو کیونکہ وہ عظیم الشان قو میں جو بڑے ولولوں کے ساتھ بڑی امیدیں لئے تمہاری طرف بڑھ رہی ہیں تمہارے دامن میں پناہ چاہتی ہیں۔جن کو دنیا میں اور کہیں امن نصیب نہیں ہوا لیکن جانتی ہیں کہ اگر امن ہے تو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام میں ہے اور آپ کے دامن میں پناہ لینے سے امن ملتا ہے وہ آپ کی طرف دوڑی چلی آرہی ہیں۔پس آپ فکر کریں اور گھبرا کر اپنے گردو پیش کا جائزہ لیں اور جاگنے کی کوشش کریں۔بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوگ جاگتے نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس مضمون کو بار بار فرمایا ہے اور بچپن میں بھی اس کا کچھ لطف آتا تھا مگر اب جوں جوں تجربہ بڑھ رہا ہے میں اس کی حقیقت کو سمجھتا جا رہا ہوں اور جانتا ہوں کہ آپ کا یہ کلام محض لطف کی بات نہیں ہے بلکہ آپ کی گہری پریشانی اور لمبے تجربہ کا مظہر ہے۔وہ نہیں جاگتے سو بار جگایا ہم نے (درین صفحہ : 16)