خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 476 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 476

خطبات طاہر جلد 13 476 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 رجون 1994ء 66 الله کے کہ اے آقا کیا بات ہے۔یہ شعر پڑھ رہے ہیں اور اتنا رو کیوں رہے ہیں۔انہوں نے کہا اتنا پیارا شعر حسان نے کہا ہے کہ میرے دل میں حسرت اٹھ رہی ہے کاش میں نے یہ شعر کہا ہوتا۔یہ عشق ہے جو دوطرفہ عشق ہے اور قرآن اور احادیث گواہ ہیں کہ جس طرح آخرین کو اولین سے محبت ہوئی اسی طرح اولین کو بھی آخرین سے محبت ہو گئی تھی اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ اکٹھے ہوں گے کیونکہ جن کو جن سے محبت ہوتی ہے ان کو جدا نہیں رکھا جائے گا۔پس مرتبوں میں بھی وہ اکٹھے کئے گئے۔آئندہ کی دنیا میں بھی اکٹھے کئے جائیں گے۔یہ مضمون ہے جو یہ حدیث بیان فرما رہی ہے۔پھر فرمایا ” المرء مع من احب “ یہاں تاریخ کے حوالے سے صحابہ کے دور کے حوالے سے ایک اور واقعہ ہے جو قابل غور ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک ایسے انسان بھی تھے جن کو آنحضور ﷺ سے گہرا عشق تھا۔مگر ان کی والدہ کی حالت ایسی تھی کہ انہیں چھوڑ کر حضور کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے۔حضرت اویس قرنی نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا۔لیکن عملاً وہی حال تھا ه لَمَّا يَلْحَقُوا بِهم " ملنے کی تمنار کھتے رہے مگر مل نہ سکے۔آنحضرت کو اللہ نے خبر دی کہ ایک تیرا عاشق ہے دور دراز علاقوں میں رہنے والا ، وہ بے انتہا تجھ سے ملنے کی تمنا رکھتا ہے مگر ماں کی خدمت کی وجہ سے اللہ کے اس فرمان کے نتیجے میں کہ ماں کی خدمت اہمیت رکھتی ہے، وہ تیرے پاس حاضر نہیں ہوسکتا۔آنحضور ﷺ نے اویس قرنی کو سلام بھیجا اور تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ دو ہی وجود ہیں جنہیں آنحضور ﷺ نے سلام بھیجا ہے یعنی باہر دور رہنے والے جن سے ملاقات نہ ہوسکی۔ایک اویس قرنی اور ایک امام مہدی۔پس اس طرح تاریخ میں رشتے ملتے ہیں۔اولین کے آخرین سے اس طرح تعلق باندھے جاتے ہیں یہ کوئی فرضی افسانوی مضمون نہیں ہے یہ گہری حقیقتیں ہیں۔پس ایک وہ قرنی تھا جس نے زمانہ پایا اور پھر بھی مل نہ سکا۔ایک وہ تھا جو قادیان میں پیدا ہوا جس نے ایسا عشق کیا کہ اس کی کوئی مثال امت محمدیہ میں دکھائی نہیں دیتی۔اس کے دل پر بھی اللہ سے علم پا کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نظر پڑی اور فرمایا کہ اگر تمہیں برف کے تو دوں پر سے گھٹنوں کے بل چل کر بھی وہاں پہنچنا پڑے تو مہدی تک پہنچنا اور میرا سلام کہنا۔یہ عجیب واقعہ ہے، ایک عظیم واقعہ ہے، لیکن اولین کو آخرین سے ملانے والی بات ہے اس مضمون کو سمجھنا ضروری ہے۔اور تیسر اسبق اس حدیث میں یہ ملتا ہے کہ آنحضور نے فرمایا: ” المرء مع من احب ‘اس کا