خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 475 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 475

خطبات طاہر جلد 13 475 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جون 1994ء عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں ایک شخص آیا وہ مدینے کی سوسائٹی کا نہیں تھا، انجانا انسان تھا۔ورنہ صحابہ ہر جگہ یہ کہتے ہیں فلاں شخص آیا اس نے یہ سوال کیا۔وہ ایسا شخص ہے جس کو کوئی پہچانتا نہیں تھا وہ آیا ہے اور آتے ہی اس نے یہ سوال کیا یا رسول اللہ ! اس شخص کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جو ایسی قوم سے محبت رکھتا ہے جو ان سے نہیں ملی۔اس میں ایک پیغام یہ ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو بہت سے صحابہ کے دل میں آپ سے ملنے کی تمنا پیدا ہوئی۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں وہ آخرین جن کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے کہ وہ ابھی صحابہ سے نہیں ملے اس زمانے میں ان سے ملنے کی تمنا لا زما پیدا ہوئی ہے جس تمنا کا ذکر اس سوال میں کیا گیا ہے کہ یا رسول اللہ ! ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ان سے ملنا چاہتے ہیں ان سے محبت رکھتے ہیں جوا بھی نہیں ملے۔پس تاریخ نے جو اولین کی ہو یا آخرین کی ہو قرآن کے حوالے سے ہمیں اس طرح باندھ دیا ہے کہ ہم الگ وجود نہیں رہے اور یہ خیال کر لینا کہ چودہ سو سال پہلے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت کے حوالے سے کہیں گے کہ تیرہ سو سال پہلے ، صحابہ کے دل میں محمد مصطفی امیہ کی محبت کے نتیجے میں ان سے بھی محبت پیدا ہوئی جن میں گویا محمد رسول اللہ نے دوبارہ وردود فرمانا تھا اور ان کا ذکر غائبانہ سنا تو دل میں یہ امنگیں بیدار ہونے لگیں، کروٹیں بدلنے لگیں کہ ہم دیکھیں تو سہی کہ وہ کون لوگ ہیں۔کاش ہم دیکھ سکتے۔یہ ویسا ہی مضمون ہے جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی محبت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بے چین ہو کر بعض دفعہ مسجد میں حضرت حسان بن ثابت کا یہ شعر پڑھتے تھے کہ: كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرُ پس یہ دوطرفہ محبت تھی۔اس شعر کا مطلب یہ ہے، حضرت حسان نے حضرت رسول اکرمی کے متعلق یہ عرض کیا کہ اے میرے آقا۔اے میرے محبوب! میری آنکھ کی پتیلی تو تو تھا جس کے ذریعے میں دیکھا کرتا تھا۔آج تو نہیں رہا تو میری آنکھ کی پتلی اندھی ہو گئی۔مجھے دنیا دکھائی نہیں ديق - مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ اب تیرے بعد جو چاہے مرتا پھرے، مجھے کوئی پرواہ نہیں، مجھے تو تیری موت کا غم تھا۔حضر مسیح موعود علیہ السلام کو آپ سے ایسا عشق تھا کہ ایک دفعہ مسجد میں یہ شعر پڑھتے جاتے تھے اور زار زار روتے چلے جارہے تھے۔ایک صحابی نے عرض کیا حضرت مسیح موعود کو مخاطب کر