خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 471
خطبات طاہر جلد 13 471 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 رجون 1994ء جو تبلیغ کا کام کر رہے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ واقعہ جیسے ہم مدہوش ہو چکے ہوں۔اب انہوں نے ظاہری شراب کا مزہ تو نہیں چکھا مگر ان کی طرز کلام بتاتی ہے ان کی تحریر بتا رہی ہوتی ہے کہ جوان کو مزہ ہے وہ دنیا کی شراب پینے والوں کے تصور میں بھی نہیں آسکتا۔بعض لوگ کہتے ہیں اب ہماری زندگی میں اور کوئی مزہ نہیں رہا اور بس دل چاہتا ہے کہ ہمیشہ خدا کی راہ کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیں اور آسمان سے گرتے ہوئے پھلوں کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں، اپنے سینوں سے لگائیں اپنی جھولیوں میں محفوظ کریں اور آئندہ پھر اسی کام پر روانہ ہو جائیں۔بہت سے ایسے داعی الی اللہ سفر کرنے والے ہیں۔میں نے روانہ ہونے کا جو لفظ بولا ہے تو ذہن میں افریقہ سے آئی ہوئی بعض اطلاعات تھیں وہاں بڑی مشکلات ہیں سفر میں اور ایک مبلغ نے لکھا کہ بعض دفعہ بخار کی حالت میں بھی آگے بڑھنا پڑا۔بعض دفعہ بیچ میں نالے ندیاں وغیرہ آئیں اسی طرح ان سے پیدل گزرنا پڑا کبھی کبھی پانی او پر سے گزر جا تا تھا لیکن پھر نیچے بھی ہو جاتا تھا۔یعنی کہیں خطرات تھے کہیں انسان معمول کے پانی سے پایا۔پانی سے گزرنا تھا۔مگر ایک دھن سوار تھی کہ ہم نے جانا ہی جانا ہے بڑھنا ہی بڑھنا ہے کیونکہ ندی پار سے یہ اطلاع ملی تھی کہ بعض لوگوں کو دلچسپی ہے۔یعنی اس حالت میں ہم نے سفر کئے۔بخار بھی آئے لیکن کوئی پرواہ نہیں کی اور پھر ایسے ایسے خطرات در پیش ہوئے کہ یوں لگتا تھا کہ خیریت سے ہمارا وا پس جانا ممکن نہیں ہو گا۔مگر ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلطان نصیر عطا ہوتے رہے، حیرت انگیز مدد آسمان سے اترتی ہم نے دیکھی۔ان جگہوں سے پھل ملے جہاں وہم و گمان بھی نہیں تھا جن لوگوں نے انکار کر دیا کہ ہمارے پاس نہ آؤ وہیں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے کہا ہم ساتھ کے گاؤں سے ہیں ہمارے پاس آؤ اور وہاں گئے اور وہ اللہ کے فضل کے ساتھ سارے کا سارا گاؤں احمدیت کو قبول کر گیا۔تو یہ جو میں روانہ ہونے کی بات کر رہا ہوں۔داعی الی اللہ بھی ایک قسم کی ہجرت کرتے ہیں وہ اپنی آرام گاہوں سے ہجرت کرتے ہیں اور مشکل مقامات کی طرف سفر کرتے ہیں اور ہر سفر پر اللہ کے انعام کو ایسا اپنے اوپر برستا دیکھتے ہیں۔تو پھر اگلے سفر کی ہمت وہیں سے پاتے ہیں وہیں سے آئندہ سفر کے ارادے باندھے جاتے ہیں ورنہ دنیا میں تو یہ ہوتا کہ انسان اگر سفر پر جائے اور مشکل در پیش ہو تو یہ تو بہ کرتا ہوا واپس آتا ہے کہ آئندہ میری تو بہ آئندہ میں یہ سفر نہیں کروں گا مگر دعوت الی اللہ کا ایک عجیب نشہ ہے کہ ہر مشکل سفر کے بعد یہ ارادے باندھتا ہوا انسان لوٹتا ہے کہ میں پھر جب