خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 470
خطبات طاہر جلد 13 470 خطبه جمعه فرموده 24 جون 1994ء محمد مصطفی امی ﷺ ہی کا اعجاز ہے اور اسی آیت کے حوالے سے میں اس اعجاز کا ذکر کر رہا ہوں۔آنحضور کو اللہ مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تجھ میں طاقت نہیں تھی مگر مجھ میں طاقت تھی اور میں نے تیرے ذریعے یہ معجزہ دکھایا ہے خدا سے جب تیری ذات ملحق ہو گئی اور خدا نے جب تجھ میں انفاخ قدسی پھونکے تو اس کے نتیجہ میں تو وہ نعمت بن گیا جس نعمت کے ذریعے تمام بکھرے ہوئے ایک دوسرے سے کٹے ہوتے ایک دوسرے کے دشمنوں کو ایک ہاتھ پر دوبارہ باندھنے کے انتظام ہوئے اور اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے اگر یہ نہ ہوتا تو یہ لوگ آگ میں جھونکے جانے کے لائق تھے۔آگ کے کنارے تک پہنچے ہوئے تھے۔وہاں سے خدا فرماتا ہے میں نے تمہیں کھینچ کر ایک دوسرے کے باہمی مودت عطا کی، ایک دوسرے کی محبت میں باندھ دیا پس پھر بھی اگر ایسا کرو گے تو آگ کے سوا تمہارا کوئی انجام نہ ہوگا۔اس مضمون کو جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں خصوصیت سے اس زمانے میں بیان کرنے کی ضرورت اس لئے درپیش ہے کہ ہم کثرت کے ساتھ پھیل رہے ہیں اور آسمان پر یہ بات جو پہلے میں کہا کرتا تھا کہ لکھی گئی اب وہ ابھر کر روشن چہروں کی صورت میں سامنے آگئی ہے اور آسمان سے جن پھلوں کے وعدے دیئے گئے تھے وہ پھل ہم اپنے اوپر برستے دیکھ رہے ہیں کوئی سال ایسا نہیں گزر رہا جس میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تبلیغ کی رفتار نہ بڑھ رہی ہو اور نئی نئی قومیں داخل نہ ہو رہی ہوں۔کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتا جس میں نئے نئے لوگوں کے آنے کی خوشخبری نہ ملتی ہو۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جبکہ کثرت کے ساتھ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر شکر کے ساتھ ادا کرتے ہوئے مجھے اطلاعیں نہیں بھیجتے کہ ہم نے ایسے ایسے اعجاز دیکھتے ہیں کہ ہماری روح تمام تر سجدہ ریز ہو چکی ہے۔ایسے ایسے اعجاز دیکھے ہیں کہ ان کے لطف کو بیان کرنے کی ہمارے قلم میں طاقت نہیں۔ہم لاعلم نا تجربہ کار محض اس وجہ سے میدان تبلیغ میں نکلے کہ آپ نے کہا تھا کہ آج اللہ تم سے یہی چاہتا ہے کہ تم میدان تبلیغ میں نکل کھڑے ہو، ہم نہتے لوگ ہمارے پاس کوئی زاد راہ نہیں تھا۔مگر اللہ نے آوازوں میں ایسی ایسی برکتیں ڈالیں کہ جہاں سے کوئی توقع نہیں تھی وہاں سے بھی خدا کے فضل سے لبیک لبیک کہتے ہوئے لوگ جوق در جوق احمدیت میں داخل ہونے لگے۔پس یہ جو رونما ہونے والا معجزہ ہے یہ کسی ایک جگہ کا نہیں، کسی ایک ملک کا نہیں، کل عالم میں یہی ایک عجیب کیفیت ہے جو فضا میں پیدا ہو چکی ہے اور اس کیفیت سے جماعت کے دل اس طرح نشے میں مخمور ہیں کہ تمام دنیا کی جماعت میں