خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 469
خطبات طاہر جلد 13 469 خطبه جمعه فرموده 24 جون 1994ء پیاری دل لبھانے والی باتوں کی صورت میں بیان کیا اور اپنے کردار سے ان باتوں کو ایسا سمجھایا کہ وہ اخلاق آپ کے دیکھنے والوں کے دل پر نقش ہوئے۔ان کے خون میں، رگ و پے میں سرایت کر گئے اور ساری زندگیاں ان کی ذات اور ان کے کردار میں جاری وساری رہے۔پھر انہوں نے وہی اخلاق آئندہ نسلوں میں منتقل کئے۔یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ اس میں انقطاع بھی ہوئے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان مجددین کو بھیجا جن کے ذریعے خاص الہی فضل کے نتیجے میں سنت محمد مصطفی ﷺ کو پھر جاری فرمایا گیا۔یہ سلسلہ اسی طرح ٹوٹتا اور پھر جڑتا ہوا تاریخ میں آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ آیا جبکہ مسلماں را مسلماں باز کردن“ کی تقدیر پوری ہوئی کہ خدا نے مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان بنانے کا فیصلہ فرمالیا۔یہ اس مضمون کا اختصار سے خاکہ ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اور یہی احمدیت کی سب سے بڑی صداقت کی دلیل ہے۔ار جماعت احمد یہ عالم اسلام میں ایک ہی جماعت ہے جو ایک ہاتھ پر اکٹھی ہے، جماعت احمدیہ عالم اسلام میں ایک ہی جماعت ہے جو ایک سو چالیس ممالک میں پھیلی ہوئی ہونے کے باوجود پھر بھی ایک جمیعت رکھتی ہے، ایک مرکز رکھتی ہے اور دور دور پھیلے ہوئے احمدیوں کے دل بھی آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ایک تکلیف کسی احمدی کو خواہ پاکستان میں پہنچے خواہ بنگلہ دیش میں، ہندوستان میں یا کسی اور ملک میں، اس تکلیف کی جب بھی خبر دنیا میں پھیلتی ہے جماعت احمد یہ خواہ دنیا کے کسی ملک سے تعلق رکھتی ہو یوں محسوس کرتی ہے کہ ہماری ہی تکلیف ہے اور عجیب اتفاق ہے، اتفاق تو نہیں یعنی خدا کی تقدیر کا ایک حصہ ہے کہ جیسے میں آپ کے لئے غمگین ہوتا ہوں جماعت میرے لئے غمگین ہوتی ہے کہ اس غم سے مجھے زیادہ تکلیف نہ پہنچے اور ہر ایسے موقع پر مجھ سے تعزیت کا اظہار کیا جاتا ہے اور ایسی سادگی اور بھولے پن سے، جیسے وہ اس بات پر مقرر کئے گئے ہیں کہ میری دلداری کریں۔چنانچہ اسیران راہ مولا کے معاملے میں مسلسل ہمیشہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ مجھ سے ہمدردی کرتے رہے، فکر کا اظہار کرتے رہے۔یہاں تک کہ مائیں بچوں کے حوالے سے لکھتی رہیں کہ جب آپ ان کا ذکر کرتے ہیں اور آپ کی آنکھوں میں نمی آجاتی ہے تو ہمارے بچے بے چین ہو جاتے ہیں۔ایک ماں نے لکھا کہ بچہ رو پڑا اس نے رومال نکالا اور دوڑا دوڑا گیا، میرا ذکر کر کے کہ ان کے آنسو پونچھوں۔اب یہ جو واقعہ ہے یہ اللہ کے اعجاز کے سوا ممکن نہیں ہے۔اس مادہ پرست دنیا میں کوئی ہے تو دکھائے کہاں ایسی باتیں ہیں۔یہ حضرت