خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 468

خطبات طاہر جلد 13 468 خطبه جمعه فرموده 24 جون 1994 ء اب کبھی بھلانا نہ اور ہاتھ سے چھوڑنا نہ۔اگر تمہارا آپس کا باہمی ربط محبت اور باہمی تعلق دوبارہ کسی وجہ سے منغض ہو گیا، اگر پھر آپس میں افتراق پیدا ہو گئے ایک دوسرے سے پرے ہٹنے لگے تو اس کا انجام وہی ہے جہاں سے تمہیں کھینچ کر واپس لایا گیا تھا یعنی بھڑکتی ہوئی آگ کا کنارہ۔پس قوموں کے اتحاد کے بعد جب وہ افتراق اختیار کیا کرتی ہیں تو ان کا انجام وہی انجام ہے جہاں سے قرآن کریم نے بات کا آغاز فرمایا ہے تو اس پہلو سے یہ مضمون غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور میں حدیث اور سنت کے حوالے سے بیان کر رہا ہوں کہ باہمی محبت کو فروغ دینے والی کون سی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت یعنی مجسم نعمت حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جب دنیا میں نازل ہوئے تو خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے بکھرے ہوئے دلوں کو کیسے اکٹھا کیا تھا۔وہ اخلاق حسنہ تھے جنہیں اخلاق مصطفوی کہا جا سکتا ہے۔دعائیں اور عبادت، ایک اپنا مقام رکھتی ہیں لیکن دعاؤں اور عبادت کے نتیجے میں وہ اخلاق والی قومیں پیدا ہوتی ہیں جو انبیاء سے اخلاق سیکھتی اور ویسے ہی رنگ اختیار کر جاتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے ان کا ذکر رسول سے الگ نہیں فرمایا بلکہ فرماتا ہے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ اور پھر سب صفات اکٹھی بیان فرماتا ہے۔پس یہ وہ وہ مضمون ہے جس پر میں حدیث اور سنت کے حوالے سے روشنی ڈال رہا ہوں تا کہ جماعت جو مدتوں کے انتظار کے بعد تیرہ صدیوں تک امت کے در بدر پھرنے اور متفرق ہوتے چلے جانے کے بعد پھر خدا نے آسمان سے وہ رابطہ اتارا جس سے ایک دفعہ پھر حبل اللہ پر ہمارا ہاتھ پڑ گیا اور حبل اللہ پر ہاتھ پڑے بغیر یعنی اللہ کی رسی کو تھامے بغیر متفرق اور منتشر قو میں اکٹھی نہیں ہوا کرتیں۔پس اس نعمت کی قدر کرو اور کسی قیمت پر بھی حقیقت میں جان بھی جائے تو اس رسی کو ہاتھ سے جانے نہ دو اور جو بھی جماعت میں افتراق کی باتیں کرتا ہے یا اس کے رویے سے دُوریاں پیدا ہوتی ہیں وہ جان لے کہ وہ خدا کی اس تقدیر کے برعکس رخ اختیار کئے ہوئے ہے اور ایسے لوگوں سے ہمیشہ جماعت کو خطرہ درپیش رہے گا۔یہ جو مضمون ہے یہ بہت وسیع اور بلند بھی ہے اور گہرا بھی لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی میں تو نے تمام مشکل مضامین کو اپنی ذات میں آسان کر کے دکھا دیا۔وہ بڑے بڑے اعلیٰ اخلاقی مراتب جن کے متعلق درس دینے والے فلاسفر درس دیتے رہے اور دیتے رہیں گے مگر سمجھا نہ سکے اور ان چیزوں کو اخلاق میں رائج نہ کر سکے۔آنحضرت ﷺ نے ان الجھے ہوئے مشکل مسائل کو چھوٹی چھوٹی سا ساده