خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 458
خطبات طاہر جلد 13 458 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جون 1994ء صلى الله ہے تو بلا شبہ یہ اللہ کا کلام ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے ورنہ حضرت محمد رسول اللہ اپنی طرف سے تو کسی کو سردار بہشت نہیں بنا سکتے تھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آپ کی نظر ان کے روحانی مراتب پر تھی، ہر گز اس بات پر نہیں تھی کہ چونکہ میری بیٹی کی اولاد میں سے ہوں گے یا بیٹی کی پشت سے پیدا ہوں گے اس لئے یہ سردار بہشت ہیں۔پس ان کا سردارانِ بہشت ہونا بتا تا ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کا روحانی ورثہ پایا ہے۔آپ فرماتے ہیں اس اعلیٰ بات کا ذکر تم نہیں کرتے اور محرم کے موقع پر یا ویسے مجالس میں خونی رشتے کی باتیں کرتے چلے جاتے ہو۔اگر ایسا کرو گے تو دوسرے روحانی ورثہ پانے والوں کی طرف بھی محبت کی نگاہ پڑے گی، نفرت کی نگاہ ان پر نہیں پڑ سکتی۔یہی وجہ تفریق ہے۔یہی بیماری ہے جس کی نشان دہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی اور جس طرف اب توجہ کرنا ضروری ہے۔تمام شیعوں کو میری نصیحت ہے کہ وہ اپنی مجالس میں جتنا چاہیں محبت کا اظہار کریں مگر اگر روحانی تعلق سے ایسا کریں تو پھر وہی روحانی تعلق کی باتیں ان کو حضرت ابو بکر سے بھی محبت پر مجبور کر دیں گی ، حضرت عثمان سے بھی محبت پر مجبور کر دیں گی ، حضرت عمرؓ سے بھی محبت پر مجبور کر دیں گی۔تمام صحابہ کے لئے ان کے دل میں محبت کے سوا اور کچھ نہیں رہے گا لیکن چونکہ جسمانی رشتے پر زور دیا جاتا صلى الله ہے اور اس پہلو سے صحابہ کو کلیۂ حضرت محمد رسول اللہ سے جدا دکھایا جاتا ہے گویا ایک الگ قوم ہے جس کا آپ سے اور آپ کے مقاصد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس لئے یہ نفرتیں رفتہ رفتہ ان کے دلوں میں جاگزیں ہوئیں اور پھر بڑھتی چلی گئیں یہاں تک کہ بغض صحابہ ان کے ایمان کا حصہ بن گیا اور اس نے پھر یہ رد عمل دکھایا کہ سینیوں میں بھی سپاہ صحابہ جیسی چیزیں پیدا ہوئیں جن کے اعلیٰ مقاصد میں شیعوں کا خون بہانا اس طرح داخل ہو گیا جیسے اسلام کے دشمنوں کے خلاف جہاد صحابہ کے دلوں میں داخل تھا۔صحابہ کے دلوں میں اسلام کے خلاف تلوار اٹھانے والوں کے مقابل پر جہاد کا ایک جوش پایا جاتا تھا لیکن یہ ایک دفاعی جہاد تھا، اس میں نفرتوں کا کوئی تعلق نہیں تھا۔یہ ان نفرتوں کے خلاف جہاد تھا جن نفرتوں کا صحابہ کونشانہ بنایا جارہا تھا، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کونشانہ بنایا جارہا تھا لیکن جو آج ہم دیکھ رہے ہیں وہ بالکل برعکس قصہ ہے سپاہ صحابہ کے دل میں شیعوں کی نفرت ہے جو موجزن ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شیعوں میں سے کسی کا قتل یا ان میں سے کسی مجلسی کا قتل کرنا نہ صرف یہ کہ اللہ کے حضوران