خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 457
خطبات طاہر جلد 13 457 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 / جون 1994ء برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔جو شخص مجھے بُرا کہتا یا لعن طعن کرتا ہے اس کے عوض میں کسی برگزیدہ اور محبوب الہی کی نسبت شوخی کا لفظ زبان پر لا ناسخت معصیت سمجھتا ہوں۔“ فرمایا جو مجھے برا سمجھتا ہے، مجھ پر لعن طعن کرتا ہے اس کا بدلہ میں معصومین سے نہیں لیتا اور شوخی کے طور پر ان پر اپنا غصہ اتارنا ایک سخت لعنت کی بات سمجھتا ہوں سخت براسمجھتا ہوں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس میں کس ایماندار کو کلام ہے کہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنھما خدا کے برگزیدہ اور صاحب کمال اور صاحب عفت اور عصمت اور ائمۃ الھدی تھے (یعنی ہدایت کے اماموں میں سے تھے ) اور وہ بلاشبہ دونوں معنوں کی رو سے آنحضرت ﷺ کی آل تھے۔خون کے لحاظ سے بھی آل تھے اور روحانی وراثت کے لحاظ سے بھی آل تھے۔لیکن کلام اس بات میں ہے کہ کیوں آل کی اعلی قسم کو چھوڑا گیا ہے اور ادنی پر فخر کیا جاتا ہے۔تعجب کہ اعلیٰ قسم امام حسن اور امام حسین کے آل ہونے کی اور کسی کے آل ہونے کی جس کی رو سے وہ آنحضرت ﷺ کے روحانی مال کے وارث ٹھہرتے ہیں اور بہشت کے سردار کہلاتے ہیں۔یہ لوگ اس کا تو کچھ ذکر نہیں کرتے اور ایک فانی رشتے کو بار بار پیش کیا جاتا ہے۔“ یہ وہ نقص ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کی محبت رکھنے والوں کے تعلق میں بیان فرما رہے ہیں کہ ان کو اس پہلو سے اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔ان دونوں کا مرتبہ جس کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ نے ان کو روحانی طور پر بہت اعلیٰ مراتب پر فائز فرما دیا وہ روحانی تعلق کی بنا پر تھا نہ کہ جسمانی رشتے کی بنا پر۔آپ نے فرما دیا، سے یہ مراد ہے کہ آپ نے ان کے اعلیٰ مراتب کی نشاندہی فرمائی اور ان کی شان میں بہت ہی پاکیزہ اور مقدس خیالات کا اظہار فرمایا۔ان کو ان اعلیٰ مراتب پر فائز تو خدا نے فرمایا تھا مگر حضرت محمد رسول اللہ کی زبان سے ہم نے اس کا ذکر سنا اس لئے آپ جب کہتے ہیں کہ وہ سردارانِ بہشت میں سے