خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 452 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 452

خطبات طاہر جلد 13 452 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جون 1994ء مرکزیت اسلام کو دوبارہ نصیب ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت امام حسن اور امام حسین گا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ ابنیت کا بھی نہیں دیا تھا۔“ یہ وہ عبارت ہے جس کو لے کر مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو امام حسین کے خلاف کیسی سخت زبان استعمال کی ہے۔ رتبہ ابنیت کا بھی نہیں دیا تھا، کہتے ہیں دیکھو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اولاد صلى الله میں شمار نہیں کرتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت پوری پڑھتے تو ان کو پتا چلتا کہ اگلے فقرے میں یہ فرمایا کہ: آیت خاتم النبیین بتا رہی ہے کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا اَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ کہ محمدؐ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں تو یہ اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت امام حسن اور امام حسین ہی نہیں ، صحابہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو جسمانی طور پر محمد رسول اللہ کا بیٹا ہو اور ہر ایک وہ ہے جو روحانی طور پر آپ کا بیٹا بن سکتا ہے۔“ پس یہ تفریق دور کرنے کے لئے ایسا عظیم نکتہ امت محمد یہ کے سامنے پیش فرمایا کہ تم خون کے رشتے سے انبیت کی باتیں چھوڑ دو کیونکہ قرآن کریم نے ہر رشتے سے اہنیت کی باتیں ختم کر دی ہیں سوائے روحانی رشتے کے ۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ رسول کا رشتہ سب سے برابر کا رشتہ ہو جاتا ہے اور اس رشتے سے جو روحانی بیٹا بنے گا اس کی راہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی اور جو روحانی بیٹا نہیں بنے گا ظاہری تعلق بھی اس کا کام نہیں آ سکتا۔ ط یہ وہ مضمون تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا اور ان ملانوں نے کیسے کیسے ظلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کے خلاف یہ غلط باتیں منسوب کیں کہ گویا نعوذ بالله من ذالک آپ کے دل میں نہ صحابہ کی عزت تھی نہ اہل بیت کی تھی ۔ اب میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں بتاتا ہوں کہ آپ کے نزدیک اہل بیت کا کیا مقام