خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 451
خطبات طاہر جلد 13 غیر معمولی عشق تھا۔451 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 / جون 1994ء صلى پس وہی اہل بیت ہیں، وہی صحابہ ہیں، آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد تمہیں کیا جنون کو دا ہے کہ انہی اہل بیت اور صحابہ کو ایک دوسرے کے دل پھاڑنے کے لئے استعمال کرنے لگے ہو۔وہ تو محبتوں کے پیغامبر تھے عشق کے سمندر تھے ہم نے انہیں نفرتوں کے سمندر میں تبدیل کر دیا ہے۔پس آج امت محمدیہ کو یہ باتیں سمجھانے کی ضرورت ہے ورنہ یہ امت ، امت محمدیہ کہلانے کی مستحق نہیں رہے گی۔ابھی چند دنوں تک آپ دیکھیں گے کہ محرم کے جلوس کراچی میں بھی نکلیں گے، خیر پور میں بھی نکلیں گے، ملتان میں بھی نکلیں گے، بہاولپور میں بھی اور لاہور وغیرہ میں بھی اور ہر جگہ غیر معمولی طور پر پولیس کی طاقت دو نفرت کرنے والے سمندروں کے بیچ میں دیوار کی طرح حائل ہو گی اور پھر وہ يَبْغِيَان ہوں گے ، وہ ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کریں گے اور ان دیواروں کو توڑ کر ، ان کی نفرتیں پھلانگتی ہوئی دوسرے کے امن کو پارہ پارہ کر دیں گی اور ان کی زندگیوں کو زہر آلود کر دیں گی۔یہ کیا دن ہیں اور ان دنوں کے کیا تقاضے ہیں؟ اور یہ کیا حرکتیں ہیں جو ان دنوں میں کی جارہی ہیں؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن پر ظالم ملاں یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے نہ اہل بیت کی عزت کی نہ صحابہ کی۔ان کی اہل بیت کی عزتیں تو ہر روز بر سر عام گلیوں میں پھرتی ہیں اور جو کچھ کسر رہ جاتی ہے وہ محرم کے دنوں میں طشت از بام ہو جاتی ہے۔کچھ بھی لگا چھپا باقی نہیں رہتا۔مگر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺے اور آپ کے صحابہ اور آپ کے اہل بیت کے عشق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جو پاکیزہ تحریریں ہیں ان پر مہریں لگائی گئی ہیں ،ان پر تالے لگا دئے گئے ہیں۔جو عشق کے اظہار ہیں انہیں اجازت نہیں کہ وہ گلیوں میں کھل کر نکلیں۔جو نفرتوں کے پیغام ہیں وہ گلیاں ان کی ہیں، وہ محن ان کے ہیں ، جب چاہیں جس طرح چاہیں نفرتوں کا اظہار جس ملک میں چاہیں کرتے پھریں، یہ بڑا ظلم ہے، یہ ایک خود کشی ہے۔پس آج کے خطبے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چند تحریر میں چینی ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور یہی آج امت کا علاج ہے کہ ایک ہی زبان سے ایک ہی منہ سے صحابہ کے عشق کے قصے بھی بیان ہوں اور اہل بیت کے عشق کے قصے بھی بیان ہوں تا کہ پھر امت ان دو پاک ذرائع سے ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو جائے۔یعنی محمد رسول اللہ علیہ کے عشق میں، اور وہی