خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 450
خطبات طاہر جلد 13 450 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جون 1994ء صلى الله دوسرے کے خلاف نفرت کی تعلیم دیتے ہیں اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے 72 حصوں میں امت کو تقسیم کر گیا اور آج تک ان کو ہوش نہیں آئی۔پس جماعت احمدیہ کو آنحضور ﷺ کی محبت کا پیغام اس رنگ میں امت کو دوبارہ دینے کی ضرورت ہے جس رنگ میں پہلی بار دیا گیا تھا۔قرآن کریم نے جو دلوں کے باندھنے کا ذکر فرمایا ہے وہ اللہ کی نعمت کے ساتھ باندھنے کا ذکر فرمایا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت محمد رسول اللہ اللہ تھے اور حقیقت یہ ہے کہ آپ ہی کی محبت نے ایک دوسرے کے دشمن قبائل کو یک جان کر دیا تھا۔وہ جو ایک دوسرے کے جان کے دشمن تھے وہ بھائیوں کی طرح صلى الله بلکہ ان سے بھی بڑھ کر جان نثار کرنے والے دوست بن چکے تھے اور حضور اکرم ﷺ کے وجود کو نکال صلى الله کر اس کا تصور بھی پیدا نہیں ہو سکتا، ناممکن دکھائی دیتا ہے۔پس اگر چہ محمد رسول اللہ ﷺ نے خود بالا رادہ ایسا کام نہیں کیا مگر اللہ نے آپ کی ذات میں آپ کی نعمت میں ایک ایسی غیر معمولی کشش رکھ دی تھی کہ ناممکن تھا کہ لوگ آپ کی ذات پر ایک مرکز کی حیثیت سے جمع نہ ہو جائیں۔پس مرکز مدینہ نہیں تھا، مرکز محمد رسول اللہ تے تھے۔مرکز مکہ نہیں تھا، مرکز محمد رسول اللہ تے تھے۔جہاں کہیں آپ جاتے تھے وہیں مرکز منتقل ہوتا تھا۔آپ بیٹھتے تھے تو اسلام کا مرکز آپ کی ذات میں بیٹھتا تھا۔آپ اٹھتے تھے تو اسلام کا مرکز آپ کی ذات میں اٹھتا تھا اور یہی وہ نکتہ تھا جو صحابہ کے عشق نے ہمیشہ کے لئے ہم پر حل کر دیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مرکز سے محبت اور آپ کی ذات میں اکٹھے ہونے کا نام ہی اسلامی وحدت ہے اور یہی توحید کا پیغام ہے جو آج ہمیں سب دنیا کو دینا ہے۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کو پہلے دینا ضروری ہے کیونکہ سب سے زیادہ اس امت کا حق ہے کہ انہیں دوباره از منہ گزشتہ کی یاد دلا کر، ان زمانوں کے واسطے دے کر جن زمانوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کی اولاد بھی تھی ، آپ کے صحابہ بھی تھے اور کسی کے دل پھٹے ہوئے نہیں تھے۔وہ تمام صحابہ جب حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کو دیکھتے تھے تو ان کی نظریں عشق اور فدائیت سے ان پر پڑتی تھیں۔ان کے ذکر دیکھو کیسے کیسے پیار سے حدیثوں میں محفوظ کئے گئے۔کس طرح صحابہ ان کو آنحضرت کے کندھوں پر سوار دیکھتے تھے، نماز میں سجدوں میں جاتے تھے تو اس طرح پیار سے ان کو اتار دیا کرتے تھے، کس طرح ساتھ کھیلتے اور حرکت کرتے اور لاڈ اور پیار کرتے ہوئے دیکھتے تھے اور یوں لگتا تھا کہ تمام صحابہ کی آنکھوں میں دل پکھل پگھل کر آ رہے ہیں۔وہ طرز بیان بتاتی ہے کہ