خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 449
خطبات طاہر جلد 13 449 خطبه جمعه فرموده 17 جون 1994ء صدقے ایک ہاتھ پر ایک جان کے نذرانے لئے ہوئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔اس کے برعکس آپ عجیب بات اخباروں میں پڑھتے ہیں اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ذکر سنتے ہیں کہ محرم آ رہا ہے۔سخت خطرات ہیں، بڑی دشمنیاں ہوں گی، گلیوں میں خون بہیں گے، سر پھٹول ہو گی، ایک دوسرے کو گالیاں دی جائیں گی اور اسلام کے دو بڑے حصے یعنی شیعہ اور سنی اگر اس عرصہ میں گزشتہ محرم سے اب تک قریب آ بھی گئے تھے تو پھر دوبارہ ایک دوسرے سے ایسا پھٹیں گے کہ وہ نفرتوں کی یاد آئندہ محرم تک باقی رہے گی اس لئے حکومتوں کے ادارے الرٹ ہورہے ہیں۔بعض جگہ فوجوں کو بلایا جا رہا ہے، بعض جگہ پولیس کے Reserves کو حرکت دی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ نہایت خطرے کے دن ہیں۔محبت سے خطرے ہیں؟ کیسے خطرے ہیں؟ محبت تو خطروں کو مٹا دیا کرتی ہے، محبت تو خطروں کے ازالے میں کام آتی ہے۔پس دونوں جگہ محبت میں کوئی جھوٹ شامل ہو گیا ہے۔دونوں جگہ نظریں ٹیڑھی ہوگئی ہیں اور حقیقت حال کو دیکھنے سے کلیۂ عاری ہو چکی ہیں ورنہ ناممکن تھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی محبت آپ کے صحابہ اور آپ کے اہل بیت کے درمیان ایسی پھٹ جاتی کہ گویا ایک سے وابستگی دوسرے سے نفرت کے ہم معنی ہو جاتی۔ایک سے نفرت صلى الله دوسرے کی محبت کے مترادف ہو جاتی۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت میں تو کوئی جھوٹ نہیں، ان محبت کے دعوی کرنے والوں میں ضرور جھوٹ ہے جو اس محبت کو یہ رنگ دیتے ہیں۔پس میں تمام عالم اسلام کو ان احمدیوں کی وساطت سے جو اس خطبے کو سن رہے ہیں یہ پیغام دیتا ہوں کہ محرم کے دنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دلی محبت پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا کریں اور سنیوں کا یہ کوئی حق نہیں کہ وہ لوگ جو اہل بیت کی محبت میں جلوس نکالتے ہیں خواہ ان کی رسمیں پسند آئیں یا نہ پسند آئیں ان کے محبت کے اظہار میں کسی طرح مخل ہوں، ان پر پتھراؤ کریں، ان پر گولیاں چلائیں، ان پر گالیوں کی بارش کریں۔یہ کیا انداز ہیں محبت کے۔یہ تو دلوں میں ھٹی ہوئی اور گھولی جانے والی نفرتیں ہیں جو ابل ابل کر باہر آ رہی ہیں۔پس جب تک حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے عشق کو اور آپ سے سچی محبت کو تمام امت کو باہم باندھنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے اس وقت تک امت کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔سب ہی حضور کی محبت کا دعوی کر کے ایک