خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 443

خطبات طاہر جلد 13 443 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جون 1994ء اللہ نے اکرام بخشا ہے اور ان کا بغض دنیا کی محبتوں سے بھی بہتر ہوا کرتا ہے۔اس بغض کے باوجود آپ ہی کی دعا ئیں تھی جنہوں نے عرب کی کایا پلٹ دی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں وہ ایک فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تو تھیں جس نے صدیوں کے مردوں کو زندہ کر دیا۔جو بگڑے ہوئے تھے ان کو الہی رنگ عطا فرما دیئے۔پس ہر گز نفرت اور الہی بغض کا کوئی جاہلانہ معنی نہ کریں۔جو بغض آنحضرت ﷺ نے کیا ہے اس حد تک کریں اور وہ بغض ایک اور رنگ میں ظاہر ہوا ہے جو سمجھا نا ضروری ہے۔ان کی بد عادتوں سے نفرت تھی ان کو اس حد تک بری نظر سے دیکھتے تھے کہ صحابہ میں اگر چہ منع نہ بھی ہو وہ باتیں پسند نہیں فرماتے تھے۔فرمایا یہود اب خدا کی خاطر بغض کی ایک ایسی مثال ہیں جس کے اوپر قطعیت کے ساتھ قرآن گواہی دے رہا ہے۔مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وہ اللہ کے مغضوب تھے اگر ان سے غضب نہیں تو پھر اور کس سے غضب ہوگا۔پس آنحضرت ﷺ کے نزدیک یہود مغضوب تھے لیکن کیسا غضب دکھایا، یہ بھی تو غور کریں۔فرمایا دیکھو یہود سر منڈاتے جس کو آج کل Skin Head کہتے ہیں۔ٹنڈیں کرانا اور حد سے زیادہ داڑھیاں بڑھا دیتے ہیں۔تم یہ کام نہ کرو اور جو یہود کرتے ہیں ان کی روز مرہ کی عادتیں ہیں اس کے الٹ کرو۔ایسی بات بغض سے کہی جاسکتی ہے۔اس حد تک بغض کہ قابلِ نفرت اداؤں بلکہ ان کے ہم شکل ہونے سے بھی بغض اور جہاں تک ان کی ذات پر احسان کا تعلق ہے ایک ایسا جاری چشمہ تھا احسان کا ، جس سے کبھی کوئی یہودی محروم نہیں رہا۔انصاف کا سلوک ان سے کیا گیا ، احسان کا سلوک ان سے کیا گیا، ان کے حقوق کی حفاظت کی گئی یہاں تک کہ جب گواہوں نے ایک چوری کے معاملے میں گواہی دی ایک یہودی کے خلاف تو آپ نے فرمایا نہیں جب تک مجھے دوسری طرف سے بھی گواہی نہ ملے میں فیصلہ نہیں کروں گا۔قتل کے مقدے میں ایک وفد حاضر ہوتا ہے جو یہودی قبیلے کی طرف تجارت کے لئے گیا تھا۔مجھے قبیلے کا نام یاد نہیں آ رہا، خیبر میں جو قبیلہ آباد تھا اس کی بات کر رہا ہوں۔اس قبیلے کی طرف ایک وفد گیا ہے تجارت کا ، ان کا ایک آدمی قتل ہو گیا۔اب صحابہ میں دیکھیں کیسی اطاعت کی روح تھی، کیسی تنظیم تھی ، وہ چاہتے تو جو سمجھتے تھے اس کے مطابق عمل کر دیتے۔سمجھتے یہ تھے کہ ہمارا حق ہے ان میں سے کسی ایک آدمی کو قتل کر دیں مگر قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا، واپس آئے۔آنحضور ﷺ کے حضور یہ بات پیش کی اور یہ چاہا کہ ہمیں