خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 441

خطبات طاہر جلد 13 441 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جون 1994ء ضالین میں سے تھا۔تو یہ تو پتا تھا آپ کو لیکن اس کے باوجود دعا کے وعدے پر قائم رہے اور دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے جب دعا سے روکا ہے تو یہ کہا کہ جب ہم نے اس کو یہ کہا کہ وہ اللہ سے بغض رکھتا تھا پھر کبھی اس کے دل میں خیال نہیں پیدا ہوا یہ ہے حباً للہ اور بغضا للہ۔پس اگر آپ اس عبارت کا یہ ترجمہ سمجھتے ہیں کہ ہر ایک سے محبت ہے خواہ وہ آپ کے پیاروں سے نفرت کرتا ہو تو یہ بالکل جھوٹ ہے۔انسانی فطرت کے خلاف بات ہے۔ایسا دعوی ہی نہ کریں جو آپ کو منافق بنانے والا ہو۔امر واقعہ یہ ہے کہ جس سے زیادہ محبت ہوگی اس سے جو نفرت کرے گا اس کے خلاف طبعا دل میں نفرت پیدا ہوگی۔کوئی اس بات کو اچھا سمجھے یا نہ سمجھے فطرتِ انسانی یہی ہے اور فطرت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ناممکن ہے کہ آپ فطرت کو تبدیل کر سکیں۔کوئی تعلیم خواہ کیسی ہی Polished لے کر آئے وہ فطرت کو نہیں بدل سکتی۔پس بغض بھی اللہ کے لئے ہوا کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو خوب کھول کر بیان فرمایا ہے۔اپنی خاطر نہ کرو اپنے تعلقات کو نظر انداز کر دو۔مگر جب اللہ سے کوئی نفرت کرتا ہے اور خدا سے ٹکراتا ہے اور اسی حد تک اس سے بغض تم پر فرض نہیں تمہاری فطرت کا ایک طبعی حصہ ہے طبعی رد عمل ہے کیونکہ تم محبت کرتے ہو۔پس یہ کوئی ایسی تعلیم نہیں ہے جس کو بتا کر واجب کیا جا رہا ہے کہ نفرت کرو۔یہ تعلیم ہے جو یہ بتا رہی ہے کہ چونکہ تمہیں محبت ہے اسی لئے اللہ سے بغض کرنے والوں کے لئے تمہارے دل میں نفرت کے سوا کچھ پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔زور بھی لگاؤ تو کچھ نہیں کر سکتے لیکن وہ نفرت اور عام دنیا کی نفرت الگ الگ چیزیں ہیں۔یہ مضمون آپ کو سمجھانا ضروری ہے ورنہ آپ اس رنگ میں نہ نفرت کرنے لگ جائیں جن معنوں میں دنیا نفرت کرتی ہے۔وہ نفرت ایسی ہے جو آپ کے رحم سے اس کو محروم نہیں کرتی۔آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ للہی محبت کرتے تھے، سب سے زیادہ للہی بغض کرتے تھے۔مگر ان کے لئے جب تک وہ زندہ رہتے تھے ان کے لئے دعائیں کرتے تھے اور رحمت کی وجہ سے دعائیں کرتے تھے۔ابو جہل کے لئے بھی دعا کی۔حضرت عمرؓ کے ساتھ ان کو بھی تو بریکٹ میں ڈالا کہ اے خدا یہ نہیں تو وہ دے دے۔وہ نہیں تو یہ دے دے، وہ رحمت ہی کی تو دعا تھی۔پس بغض کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ ان کیلئے ہلاکت کے گڑھے کھود نے لگ جائیں ان سے ناجائز انتقامی کارروائیاں کریں جن کا خدا نے آپ کو اختیار نہیں دیا۔ان کا برا چاہنا اور ہے اور للہی نفرت ہونا اور