خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 430

خطبات طاہر جلد 13 430 خطبه جمعه فرمود و 10 جون 1994ء ہی کا صدقہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ گر سیکھے یہ حضرت محمد رسول اللہ سے ہی سیکھے تھے اور ان کو پھر جاری فرمایا اور ایسی جماعت میں جاری فرمایا جس کو آپ کے ساتھ ہی محبت تھی۔ایسی محبت کہ آج کی دنیا میں اس کی کوئی مثال نظر نہیں آ سکتی کہ کسی جماعت کو اپنے امام سے ایسا گہراعشق ، اتنا پیار ہو کہ اس کی ادنی باتوں پر بھی جان قربان کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہو۔پس وہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سیکھا وہ اپنے آقا ومولا اور ہم سب کے آقا ومولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے سیکھا اور چونکہ آپ ہی کی پیشگوئی کے مطابق آپ کو اس دنیا کے مہدی اور امام تسلیم کر کے ہمارے دل میں لہی محبت پیدا ہوئی اس لئے اسی محبت کے صدقے ، اسی محبت کے رابطے سے ہمارے آپس کے تعلقات بڑھ رہے ہیں لیکن ہم کتنے ہیں جو اس بات کو سوچتے ہیں۔بسا اوقات ملنے والوں کو تعلق بڑھانے والوں کو خیال ہی نہیں آتا کہ یہ سلسلہ کیا ہورہا ہے اور کہاں سے چلا تھا۔یہ جو حدیث میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے یہ سارے جلسوں کی روح اس کے اندر شامل ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود کا حضرت رسول اکرم ﷺ کا کلام حصہ بن چکا تھا۔آپ کی سرشت بن گئی تھی ، آپ کی فطرت ثانیہ تھی۔پس جو باتیں بھی آپ فرماتے تھے، جو صیحتیں بھی کرتے تھے وہ تمام تر قرآن اور حدیث پر مبنی بلکہ اس کی روح میں جذب ہو کر کیا کرتے تھے اور بھی تو کرتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ قرآن کی باتیں کر رہے ہیں، کون ہے جو ان کی بات کو مانتا ہے۔وللہی محبت سے طاقت پیدا ہوتی ہے۔یہ مضمون ہے جو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں۔اس طاقت ہی کے نتیجے میں اجتماعیت بنتی ہے۔اسی طاقت کے نتیجہ میں اطاعت کی روح پیدا ہوتی ہے لٹھی محبت کو نکال دیں تو پیچھے کچھ بھی نہیں رہے گا، وہ جمیعت جو بظاہر ایک توحید کے نام پر ایک عظیم مقدس نام پر عالمگیریت کا دعوی کرتی ہے وہ منتشر ہوکر پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔مسجد کا مسجد سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔فرد کا فرد سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور صلہ رحمی کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔پس اگر آنحضرت ﷺ نے صلہ رحمی، بھی فرمایا تھا تو اس مضمون کی تکمیل ہوئی ہوگی۔میرا ذاتی رجحان یہی ہے کہ آپ نے صلہ رحمی ہی فرمایا ہو گا۔ان کو جو شک پڑا ہے راوی کو اس وجہ سے شک پڑا ہے کہ مضمون تو عالمگیریت کا ہے سب بھائیوں کا ایک دوسرے سے اللہ کی خاطر محبت کرنے کا، یہاں صلہ رحمی کا کیا ذکر آ گیا۔اپنی طرف سے تو پورا یاد کیا تھا اور نفس گواہی دیتا تھا کہ یہی ہے جو مجھے