خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 429
خطبات طاہر جلد 13 429 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جون 1994ء میری خاطر ملنے جلنے والوں پر اللہ پر ان کی محبت فرض ہو جاتی ہے۔(مسند احمد بن جنبل، جز خامس صفحہ 229) آج کے جتنے اجتماعات ہیں وہ خدا کے فضل کے ساتھ محض اللہ ہیں اور جماعت کے تمام اجتماعات محض اللہ ہوتے ہیں۔کوئی میلہ ٹھیلہ مراد نہیں ہوتی اور کوئی مقصد نہیں ہوتا اور اس کے ساتھ ہی آپس میں تعلقات کے روابط بڑھتے ہیں اور ان اجتماعات میں شامل ہونے والے ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ سالانہ کے مقاصد میں جو بات بیان فرمائی وہ یہی تھی کہ محض اللہ یہاں آؤ اور دین سیکھو اور آپس میں محبتیں بڑھاؤ اور ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرو اس طرح جماعت میں ایک عالمگیریت آنی شروع ہو جاتی ہے اور آپ اگر اپنے طور پر سوچیں، وہ لوگ جن کو مرکزی جلسوں میں آنے جانے کے موقعے ملتے رہتے ہیں یا مہمانوں کی خدمت کی توفیق ملتی رہی ہے وہ جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے تعلقات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ دنیا میں کوئی اور جماعت اور کوئی اور قوم یہ دعوی ہی نہیں کر سکتی۔کیونکہ کثرت کے ساتھ اللہ کے نام پر ایک جگہ اکٹھے ہونے والے جو مختلف ملکوں اور قوموں اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں کہیں اور اکٹھے نہیں ہوتے اور آپس میں پھر ایک دوسرے سے ان کی محبتیں نہیں بڑھتیں۔انگلستان کی جماعت میں جب تک انٹر نیشنل جلسہ شروع نہیں ہوا تھا ان کو اس بات کا ذائقہ ہی نہیں تھا کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے۔اتفاقاً کوئی باہر سے آ گیا اور شامل ہو گیا۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح ہر جلسے پر سب دنیا سے لوگ کھچے چلے آتے ہیں اور مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں کے اور جب ایک مقامی آدمی کی ان پر نظر پڑتی ہے تو بلا شبہ محبت کی نظر پڑتی ہے۔کئی دفعہ گزرتے ہوئے میں نے دیکھا ہے کوئی غیر ملکی کھڑے ہیں اور ساتھ ارد گرد مقامی لوگ جمگٹھا کر کے کھڑے ہو گئے اور بڑے غور اور پیار سے ان کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے ان سے مصافحہ کرے، ان سے تعلقات بڑھائے۔یہی حال آنے والوں کا ہوتا ہے۔جاتے ہیں تو بھیگی ہوئی آنکھوں کے ساتھ واپس جاتے ہیں اور واپس جا کر جو خطوط لکھتے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ یہ مقامی لوگوں سے ہی نہیں بلکہ وہ دوسرے، جو دوسرے ملکوں سے آئے تھے ان سے بھی ان کے تعلقات بڑے گہرے ہو گئے ہیں اور پھر آپس میں خط و کتابت کے سلسلے چل پڑتے ہیں ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں کہ تم ہمارے ملک میں بھی آؤ۔تو یہ عالمگیریت جو جماعت احمدیہ کو عطا ہوئی ہے۔در حقیقت حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم