خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 424

خطبات طاہر جلد 13 424 خطبہ جمعہ فرموده 3 / جون 1994ء تھی ان کا حق نہیں مارا۔البتہ ایک آدمی نے مزدوری کم سمجھتے ہوئے نہ لی یعنی کم سمجھتے ہوئے تو یہ بریکٹ کے ترجمہ کرنے والے کے الفاظ ہیں مراد یہ ہے کہ کسی وجہ سے ناراض ہو گیا یا جو بھی وجہ تھی اس نے مزدوری نہ لی اور چلا گیا۔میں نے اس کی یہ چھوڑی ہوئی رقم کا روبار پہ لگا دی۔اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت دی اور بہت نفع ہوا۔کچھ مدت کے بعد بالآخر اس پر تنگدستی کا دور آیا اور اتنا غریب ہوا کہ مجبور ہوگیا کہ واپس آ کر مجھ سے اسی مزدوری کا مطالبہ کرے۔کہتے ہیں وہ شخص جب آیا اور مجھے اس نے مزدوری دینے کے لئے کہا تو میں نے اسے ایک اونٹوں اور بکریوں اور بھیڑوں سے بھری ہوئی وادی دکھائی کہ یہ سب تمہاری مزدوری ہے لے لو۔اس نے کہا بھائی مذاق تو نہ کرو، میں غریب آدمی ہوں غلطی ہوئی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا تھا لیکن کم سے کم مجھ سے مذاق تو نہ کرو۔اس نے کہا نہیں بھائی میں مذاق نہیں کر رہا میں سچ کہہ رہا ہوں کیونکہ اس مزدوری کو میں نے تمہارے بعد کام پر لگایا تھا اور اس کا الگ حساب رکھا تھا اور اللہ نے اتنی برکت دی کہ جہاں میرے مال میں برکت پڑی وہاں تمہارے مال میں بھی برکت پڑی اور یہ جو بھیڑ بکریاں اور اونٹ تمہیں دے رہا ہوں میں شروع سے ہی الگ رکھتا چلا آیا ہوں کیونکہ ان کو پھر میں تجارت پر لگاتا ہوں پھر برکت پڑتی ہے پھر یہ بڑھ جاتے ہیں تو ان کا حساب میں نے الگ رکھا ہوا ہے اور یہ تمہارے ہیں۔اس پر وہ خوشی سے دعائیں دیتا ہوا چلا گیا اور اس وقت وہ پتھر سرک گیا اور ان تینوں کو خدا نے یہ توفیق بخشی کہ اس قید خانہ میں جان دینے کی بجائے دوبارہ آزادی کا سانس ان کو نصیب ہوا۔( بخاری کتاب احادیث النساء حدیث نمبر : 3206) یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں اور یہ تمثیل ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب، کہاں، یہ کیسے واقعہ ہوا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ اسی طرح کی مصیبت میں ہم پھنسے ہوں۔ہم ہزار قسم کی مصیبتوں میں پھنس جاتے ہیں اور وہاں صرف ایک انسان کی نیکی اسے فائدہ نہیں دیتی بلکہ اپنے بھائی کو بھی دیتی ہے اور یہاں وہ مثال بہت ہی پیارے طور پر صادق آتی ہے کہ مومن مومن کا آئینہ ہے اور بھائی بھائی ہے اور اس کے غیب میں اس کے مال کی حفاظت کرتا ہے اور اس طرح مومن کا فیض اپنے بھائی کو پہنچتا ہے اور تمثیل ایسی عظیم بیان کی کہ ان تینوں کا اجتماعی فیض تھا جس فیض نے ان کو صلى الله نجات عطا کی ، انفرادی فیض نہیں تھا۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی باتیں حیرت انگیز طور پر عرفان میں ڈوبی ہوئی بلکہ عرفان کا ایک سمندر ہیں جو ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں ان کو غور