خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 37
خطبات طاہر جلد 13 37 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 جنوری 1994ء میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں کئی قسم کے ٹھوکر کے مقامات راستے میں آتے ہیں۔انسان کو کئی قسم کے ایسے فتنے در پیش ہوتے ہیں جن میں دل پھسل جاتے ہیں انسان گناہ کی طرف مائل ہو جاتا ہے ار کئی قسم کی ٹھوکریں کھا جاتا ہے اور پھر باہرنکل کر رستہ بھولنے کا مضمون تو ایک طبعی مضمون ہے جو ذہن میں آنا چاہئے۔حقیقت میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کا کلام، کلام اللہ کے بعد سب سے زیادہ فصیح و بلیغ ہے یعنی ایک ہی لفظ میں دونوں باتیں، اور برمحل ان باتوں کا بیان ہے۔باہر نکلتے ہیں تو ہم رستہ بھی بھول سکتے ہیں۔مسافر کہیں سے بھٹک کر کہیں اور چلے جائیں بعض دفعہ گھر کا رستہ بھی نہیں ملتا۔فرمایا اے میرے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں راستہ بھول جاؤں یا بھلا دیا جاؤں لیکن یہاں اول طور پر پیش نظر دین کا رستہ ہے اور دین کی باتیں ہیں کہ میں تیری راہ بھول جاؤں یا مجھے تیری راہ سے بھٹکا دیا جائے اَوْ اَظْلَمَ یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔اجهل او اجهل على یا میں کسی پر جہالت کروں یا مجھ پر کوئی جہالت کی جائے۔ہم نئے کپڑے پہنتے ہیں۔کتنے ہیں جنہیں کپڑا پہنتے وقت خدا یاد آتا ہو۔کپڑا پہنتے وقت ہم نے تو لوگوں کو یہ دیکھا ہے کہ Selfridges یاد آتا ہے یا دوسرے سٹور یاد آ جاتے ہیں کہ ہم نے وہاں سے لیا اور وہاں سے لیا۔سیل سے لیا یا بغیر سیل کے لیا۔کیسی ہوشیار یاں اختیار کیں کتنے پیسے بچائے یہی باتیں سنتے ہیں لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺے کپڑا پہنتے ہیں تو عرض کرتے ہیں۔اللھم لگ الـحـمـد كما كسوتنیہ۔( ابوداؤ د کتاب اللباس ) اے میرے اللہ سب حمد تیرے لئے ہے کیونکہ تو نے مجھے یہ پہنایا ہے مجھ میں کب طاقت تھی کہ میں اپنے لئے کچھ لباس حاصل کر سکتا کچھ پہن لیتا ہر عطا تیری عطا ہے۔پس ایک بھی زندگی کا ایسا لمحہ نہیں جہاں آخری قدرت والے خدا کو یاد نہیں کیا جاتا۔اس کے بظاہر سلسلہ بہ سلسلہ ہم تک پہنچتے پہنچتے مظہر اول اور اس ذات کو بھلا دیتے ہیں جس سے تمام مذاہب نکلتے ہیں رب تو اللہ ہے لیکن یہ ربوبیت مختلف ذرائع سے ہم تک پہنچتی ہے کبھی ماں باپ کے ذریعے، کبھی اپنے مالکوں کے ذریعے، کبھی دوستوں کے ذریعے کبھی اتفاق میں راہ چلتے بھی دولتیں نصیب ہو جاتی ہیں، مگر یہ وہ آخری چہرہ ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں ہماری نظریں ان چہروں پر کھڑی ہو جاتی ہیں اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نظر ان تمام چہروں سے پاک، جیسے ان کا کوئی وجود نہ ہو، اس آخری ہاتھ پر پڑتی ہے جو اول ہاتھ ہے جو اللہ کا ہاتھ ہے اس کے سوا اور کوئی ہاتھ نہیں ہے دینے والا ،