خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 411
خطبات طاہر جلد 13 411 خطبه جمعه فرموده 3 / جون 1994ء اکٹھا کرتا ہے اور وہ محمد رسول اللہ کا ہاتھ ہے اور اس ہاتھ پر اکٹھا کرتا ہے۔ جس کا محمد رسول اللہ سے تعلق ہے اور واسطہ ہے اور اٹوٹ تعلق ہے، جو ٹوٹ نہیں سکتا، تو یہ وہ جمیعت ہے، جس کی طرف قرآن کریم کی یہ آیت بلا رہی ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے مگر جمیعت کے ساتھ تھام لو۔ صلى الله صلى الله صلى الله میں اس مضمون کو بیان کر رہا ہوں کہ یہ بات تو سن لی مگر کیسے ہوگا ، کس طرح یہ رسی تھامی جائے گی اس کی تفصیل بیان کر رہا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی علی سے رابطے بڑھائیں ایک رابطہ کافی نہیں ہے۔ ایک رابطہ ایمان سے پیدا ہوتا ہے اور اس ایمان کے رابطے کے بعد پھر نئے رابطوں کے تقاضے شروع ہو جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ سب سچ بولنے والوں سے زیادہ سچے تھے اگر آپ اس سچے وجود سے محبت رکھتے ہیں لیکن سچ سے نفرت کرتے ہیں تو آپ جھوٹے ہیں۔ نا ممکن ہے کہ آنحضرت یہ جھوٹوں کے گروہ میں رہ کر سکینت پائیں اور اطمینان حاصل کریں۔ ایسے لوگوں کو خدا توفیق نہیں دیتا کہ آنحضور ﷺ کی معیت میں ہوں یا معیت میں شمار ہوں ۔ پس معیت کا جہاں تک تعلق ہے وہ زمانے سے بلند تر ہے اس کا کسی زمانہ سے تعلق نہیں ہے۔ ہر زمانے میں لوگ صلى الله آنحضرت ﷺ کی معیت حاصل کر سکتے ہیں اگر آنحضور ﷺ کے اخلاق کو اپنائیں۔ اور اگر دیکھتے ہیں کہ حضور اکرم چھوٹوں پر شفقت فرمانے والے بڑوں کا بلکہ چھوٹوں کا بھی ادب کرنے والے ہر معاملے میں ایثار دکھانے والے تھے اور بے انتہا منکسر المزاج تھے یہ تمام صفات جاننے کے باوجود کہ حضرت اقدس محمد مصطفی کی شخصیت کی زینت تھی پھر کوئی ان صفات سے دور رہتا ہے تو اس کو وہم ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے قریب رہتا ہے محض محمد رسول اللہ کا نعرہ لگا دینا آنحضور کے قریب نہیں کر سکتا ، محض اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرنا اللہ کے قریب نہیں کر سکتا ۔ صفات الہی جب بندوں میں جلوہ گر ہوتی ہیں ، تو پھر وہ اپنے خدا کے قریب ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ صفات الہی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ علی میں جلوہ گر ہوئیں ۔ پس ان صفات سے پیار کریں ، فرضی عشق نہیں کہ ہاں یہ اچھی صفات ہیں بلکہ اس حد تک پیار کریں کہ آپ ان کو اپنائے بغیر چین نہ پائیں۔ اس طرح آپ کے تعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے بڑھنے لگیں گے اور جو رسول اکرم ﷺ کی صفات اپنا کر آپ سے تعلق جوڑتا ہے وہ اپنے بھائی سے الگ ہو ہی نہیں سکتا صلى الله