خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 409
خطبات طاہر جلد 13 409 خطبه جمعه فرموده 3 / جون 1994ء فرمائیں تو آپ نے اس چھوٹے سے فقرے میں آپ کی تمام سیرت بیان فرمادی اور اس کی حقیقی روح کی طرف توجہ دلائی فرمایا کان خلقه القرآن۔ (مسلم کتاب الصلوة ) كان خلقه القرآن فرمايا، كان خلقه في القرآن نہیں۔ اگر یہ فرماتیں کہ ان خلقه فی القرآن تو اس کا یہ مطلب تھا کہ قرآن میں تلاش کرو وہاں آپ کا خلق ملتا ہے۔ کان خلقه القرآن “ آپ تو مجسم قرآن تھے۔ آپ کا تمام خلق قرآن ہے۔ گویا تمام قرآن آپ خود ہیں ان معنوں میں نبی کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی سے الگ ہٹ کر قرآن پر کسی طرح بھی مضبوطی سے ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ صلى الله وس نبی سے تعلق بعض دفعہ فرضی عشق سے بھی کیا جاتا ہے۔ نبی کے نام پر قربانیاں پیش کر کے، ر بعض دفعہ اپنی جان قربان کر کے، بعض دفعہ ظالمانہ طور پر لوگوں کی جانیں لے کر ، لوگ سمجھتے ہیں ہمارا تعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے قائم ہو گیا اور سوائے ان غیرت کے چند لمحات کے جہاں فطرتیں جوش دکھاتی ہیں روزمرہ کی عام زندگی میں وہ تعلق قائم نہیں رہتا۔ پس تعلق قائم کرنے کے لئے کچھ رستے ہیں ، کچھ رابطے ہیں ۔ ان رابطوں کے ذریعہ تعلق قائم ہوتے ہیں اور باندھے جاتے ہیں ۔ جب تک وہ رابطے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ قائم نہ ہوں قرآن سے تعلق قائم نہیں ہو سکتا۔ نہ قرآن کا سچا فہم ہو سکتا ہے، نہ قرآن سے سچی محبت ہو سکتی ہے کیونکہ قرآن سے محبت کے لئے خلق محمد مصطفی ہے جو عشق کے شعلے آپ کے دل میں جگاتا ہے اور سارے اور دل کو نور بنا دیتا ہے۔ اس عشق کے بغیر قرآن کریم کی باتیں کرنا اہل قرآن کے خشک سینوں کی باتیں ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ محمد مصطفی ﷺ کو قرآن سے الگ کر کے نہ محمد سے محبت ہو سکتی ہے نہ قرآن سے محبت ہو سکتی ہے۔ یہ دونوں ایک چیز ہیں اور ایک دوسرے سے کسی پہلو سے کسی وقت کسی جگہ جدا نہیں ہو سکتے ۔ صلى الله علیہ اصلى الله پس عامۃ الناس کے لئے سب سے بہتر اور آسان طریق یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ سے محبت نہیں بلکہ آپ کے ہر خلق سے جب محبت ہو تو اسے انسان اپناتا ہے اور اپنا سکتا ہے ور نہ اگر یہ کہا جائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ جیسے بنے کی کوشش کرو تو کیسے آپ کر سکتے ہیں ۔ مگر جب خلق اپنا لیتے ہیں تو از خود ایک تعلق قائم ہو جاتا ہے اور اس طرح ایک رابطہ نہیں مسلسل رابطے بڑھتے چلے