خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 392
خطبات طاہر جلد 13 392 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء صلى زینت بن جائیں گے، ان رستوں کی رونق بن جائیں گے، اس کے ذریعے راستے کشادہ ہو جائیں گے بجائے اس کے کہ یہ لوگ تنگی کا موجب بنیں اور راہ کی ٹھو کر بنیں یہ راہ کی ٹھوکروں سے بچانے والے بن جائیں گے۔پس جہاں بھی آپ جاتے ہیں جس بازار سے بھی نکلتے ہیں وہاں آنحضرت ﷺ کی اس نصیحت کو پیش نظر رکھا کریں اس سلیقے سے جائیں کہ آپ کی ذات سے کسی کو دکھ نہ پہنچے۔آپ کی نگا ہیں ان جگہوں پر نہ پڑیں جہاں نہیں پڑنی چاہئیں۔آپ سلام کا جواب دیں اور ایک دوسری جگہ فرمایا افشوا السلام ( ترندی کتاب صفۃ القیامۃ ) سلام کو خوب رواج دو۔سلام کے جواب دینے کا جو یہاں ذکر فرمایا ہے اور سلام کرنے کی نصیحت نہیں فرمائی اس میں ایک حکمت ہے کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جو آداب ہمیں سکھائے ہیں ان کی رو سے چھوٹا جب بڑے کو دیکھتا ہے تو پہلے چھوٹا بڑے کو سلام کرے اور چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے۔یعنی بیٹھے رہنے والے کا کام نہیں ہے کہ وہ ہر چلتے پھرتے کو سلام کرتا جائے بلکہ چلنے والا بیٹھے رہنے والے کو جو کسی جگہ بیٹھا ہو اس جگہ وہاں سے گزرتے ہوئے حق ادا کرے اور اس کو سلام کرے۔( بخاری کتاب الاستیذان حدیث نمبر : 5764) پس آنحضور ﷺ کی ذات میں کہیں ادنی سا بھی تضاد دکھائی نہیں دیتا۔آپ کی نصیحتوں میں بھی کہیں آپس میں کوئی تصادم نہیں ہے۔پس یہاں آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ رستے کا حق ادا کرو اور اس طرح ادا کرو کہ جب تم بیٹھے ہو تو چلتے پھرتے لوگوں کو سلام کرتے رہو۔فرمایا سلام کا جواب دو کیونکہ یہ چلنے والوں کا کام ہے اور انہیں کو نصیحت ہے کہ وہ جب کسی مجلس کے پاس سے گزریں تو اس کو سلام کہہ کر گزریں۔نیک بات کی تلقین کرو۔وہاں بیٹھ کر بے ہودہ سرائی نہ کرو۔بعض دفعہ یہ مجلسیں لگتی ہیں وہ مجلسیں ضروری نہیں کہ سڑک کے کنارے پر لگی ہوں۔ہوٹلوں میں بھی لگتی ہیں، چائے کی دوکانوں میں بھی لگتی ہیں، حلوائیوں کی دوکانوں پر بھی لگتی ہیں۔ان کے سامنے کھڑے ہو کر لوگ گئیں مار رہے ہوتے ہیں۔مگر جہاں جہاں بھی یہ مجلسیں لگتی ہیں بالعموم آنحضور ﷺ کی نصیحت سے عاری نظر آتی ہیں۔نہ وہاں نیکی کی باتوں کی تلقین ہو رہی ہے، نہ وہاں کسی کے سلام کا جواب دینے کی پروا ہوتی ہے، نہ نظروں کو ادب سکھایا جاتا ہے ، نہ بری باتوں سے روکا جاتا ہے۔پس یہ وہ اسلوب ہیں جن کو امت واحدہ جب اختیار کرتی ہے تو جمعیت میں مزید طاقت عطا ہوتی ہے۔آپس کے رشتے پہلے سے بڑھ کر مضبوطی سے باندھے جاتے