خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 381

خطبات طاہر جلد 13 381 خطبہ جمعہ فرمود و 20 رمئی 1994ء جہاں اخلاق ختم ہوتے ہوں اور ان پر میرا قدم ہے پس آپ نے بھی حضرت محمد رسول اللہ کی پیروی میں اپنے اخلاق کو سجانا ہے اور درست کرنا ہے۔اب جس کے اخلاق یہ رنگ پکڑ جائیں وہ کیا بنی نوع انسان کا حق مارنے کا تصور بھی کر سکتا ہے۔یہ بد خیال اس کے ذہن میں آہی نہیں سکتا۔اگر یہ بد معاملگیاں جماعت میں موجود ہیں۔اگر گھروں کے آپس کے تعلقات بگڑے ہوئے ہیں۔لین دین میں لوگ ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں۔سبز باغ دکھا کر پیسے وصول کرتے ہیں۔یہ کہہ کر کہ ہم تمہیں کینیڈا لے کر جائیں گے ، لندن چھوڑ جاتے ہیں اور پیسے لے کر بھاگ جاتے ہیں۔یہ بدخلقیاں محمد رسول اللہ کی طرف منسوب ہونے والے میں تو پانے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔وہ تو بالکل برعکس تصور ہے۔اس کا کوئی دور کا بھی رشتہ نہیں۔اسی لئے میں نے جماعت کو نصیحت کی ہے کہ جب یہ واقعات میرے تک پہنچتے ہیں تو میرا دل کھولنے لگتا ہے۔غصہ سے نہیں، بے اختیاری اور غم کی کیفیت میں کہ کیا کروں کس طرح ان کو سمجھاؤں۔ایسے ایسے لوگ ہیں جو میرے پاس آتے ہیں السلام علیکم ہم فلاں جگہ سے آئے ہیں یہ تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں اور مجھے پتا ہوتا کہ فلاں کے پیسے کھا گئے ہیں فلاں کے ساتھ ظلم کر بیٹھے ہیں جب میں ان سے کہتا ہوں کہ میں مجبور ہوں، میں آپ کا تحفہ قبول نہیں کر سکتا اپنے مظلوم بھائی کا حق تو پہلے اس کو دے دیں۔عدل پر احسان کی بنیاد ہوا کرتی ہے۔اگر عدل پر ہی آپ کا قدم نہیں ہے تو آپ احسان کرنے کے مجاز کیسے ہو گئے۔اس لئے اپنے جرم میں، اپنی نا انصافیوں میں مجھے تو شامل نہ کریں تو پھر وہ قسمیں کھاتے ہیں، کہتے ہیں او ہو ہو یہ تو بالکل جھوٹی رپورٹیں آپ کو پہنچی ہیں۔ہم تو ایسے نہیں اور بعض دفعہ پھر اللہ تعالیٰ اس طرح ان کے ظلم سے پردہ اٹھا دیتا ہے کہ بعض ان کے قریبی رشتہ دار، ان کی بیویاں بعض دفعہ آ کے رو پڑتی ہیں کہ ہمارے خاوند میں یہ بات پائی جاتی ہے خدا کے لئے اس کی اصلاح کریں۔جو میرے سامنے قسمیں کھا کر جاتا ہے کہ ہرگز میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ کسی کو لالچ دے کر لندن لانے کی یا ہمبرگ لانے کی لالچ دے کر اس سے پیسے لے کر بھاگ جاؤں یا امریکہ پہنچانے کا وعدہ کروں اور رستے میں آدھے سفر میں چھوڑ کر لاپتا ہو جاؤں۔اس کے بعد ان کے رشتہ دار آ جاتے ہیں ، ان کی بعض دفعہ بیویاں واقعہ پہنچتی ہیں اور رو پڑتی ہیں کہ ہمارے خاوند کے لئے دعا کریں اس میں یہ بدتمیزی یا بد خلقی پائی جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ حقیقت حال سے پردے اٹھانے لگتا ہے اور یہ ایک بہت ہی خطرناک پیغام ہے۔