خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 380 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 380

خطبات طاہر جلد 13 380 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 رمئی 1994ء رسول اللہ ﷺ کی نصیحتیں ختم نہیں ہوں گی۔اتنی پاکیزہ اصلاح فرمائی ہے اپنی امت کے اخلاق کی کہ اس محنت کو رائیگاں جانے دینا بہت بڑا جرم ہے۔یہ اس وقت کے لوگوں کے آداب کی اصلاح نہیں ہو رہی تھی یہ تہذیب اخلاق آئندہ زمانے کے انسانوں سے بھی تعلق رکھتی ہے، آج سے بھی تعلق رکھتی ہے، کل سے بھی تعلق رکھتی ہے، تو خوش نصیب ہے وہ جماعت جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دوبارہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا فیض پہنچنے کے ایسے دائمی سامان ہو گئے کہ جیسے ایک اعلیٰ درجہ کا باغ ہو اس میں نہریں بہتی ہوں، اس میں زمین کے چپہ چپہ تک زندگی بخش پانی پہنچانے کا انتظام ہو۔اس طرح جماعت کا نظام آپ کو عطا ہو گیا ہے جو دنیا میں اور کسی کو میسر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ خلافت عطا ہوئی ہے اور خلافت کے ساتھ یہ نظام جماعت عطا ہوا۔اس طرح آپ کو گھر گھر ، ایک ایک کھیت کے ایک ایک چپہ تک اس حسن و زندگی کے پانی کے پہنچانے کی سہولت میسر آ گئی ہے۔پس تمام جماعت کی تربیت میں نظام جماعت مستعد ہو جائے اور وہ لوگ جن تک یہ باتیں پہنچتی ہیں وہ آنحضرت ﷺ کی محبت اور اللہ کی محبت کے نتیجے میں اپنے اخلاق کو سنواریں، اپنی بیویوں کے اخلاق کو سنواریں، اپنی بہنوں کے اخلاق کو سنواریں، اپنے بچوں اور اپنی بچیوں کے اخلاق کو سنواریں۔پھر ہمسائے کی طرف توجہ کریں لیکن حسن خلق کے ذریعے محض نصیحتوں کے ذریعہ نہیں۔اخلاق سنوارنے کے دو ہی طریق ہیں ایک نصیحت کے ذریعہ اور ایک عمل کے ذریعہ۔آنحضرت ﷺ کا سب سے بڑا ہتھیار حسن عمل تھا۔حسن عمل کے ذریعہ آپ دلوں کو فریفتہ کر لیتے پھر وہ صیحتیں ان دلوں پر اس طرح پڑتی تھیں جیسے ایک پیاسی زمین پانی کو قبول کرتی ہے۔جیسے دیر کی خشک سالی کے بعد خدا کی رحمت کا پہلا قطرہ برستا ہے تو بعض پیار کرنے والے اپنی زبانیں باہر نکال لیتے ہیں کہ ہماری زبان پر وہ رحمت کا قطرہ پڑے۔یہ بھی ہوسکتا ہے اگر کسی سے پیار ہواور محبت ہو۔پس آپ کا حسن خلق کا سفر حسن عمل سے شروع ہو گا محض زبان کی نصیحت سے نہیں۔اپنے حسن عمل کو اس بلند مرتبے تک پہنچا دیں کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعثت لاتمــم مـقـام الاخلاص (سن الکبری لیقی ) کہ میرا اقدم اخلاق کی بلند ترین چوٹیوں پر ہے کیونکہ خدا نے میری بعثت ہی ایسی جگہ فرمائی ہے۔