خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 379
خطبات طاہر جلد 13 379 خطبه جمعه فرمودہ 20 مئی 1994ء جب میں مہمان کو لے کے آؤں گا تو غلطی سے جیسے پلو لگ جائے دیئے کی لوکو اس طرح دیئے کو بجھا دینا یعنی پلو مار کر دیا بجھا دیں گے تا کہ مہمان کو پتا نہ لگے کہ کتنا کھانا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔ پھر مہمان کھائے گا اور میں اور تم خالی مچا کے لیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا مہمان کھانا کھاتا رہا اور یہ خالی منہ سے آوازیں نکالتے رہے کہ بڑا ہی مزہ آ رہا ہے۔ (بخاری کتاب المناقب حدیث : 3514) ایک روایت میں ہے حضرت مصلح موعود موعود نے ایک دفعہ بیان فرمایا تھا اس کے الفاظ بہ اظ یاد نہیں لیکن مضمون یہ تھا کہ رسول اللہ نے فرمایا وہ کیا بات تھی کہ تم زمین پر مچا کے لے رہے تھے اور آسمان پر خدا مچا کے لے رہا تھا ، خدا اس کا لطف اٹھا رہا تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مہمان کو پتا ہی نہیں تھا۔ کسی نے محمد رسول اللہ کو خبر نہیں دی تھی لیکن صبح جب نماز پہ وہ نمازی حاضر ہوئے تو خدا نے الہاما آپ کو بتا دیا تھا اور وہ آیت ہمیشہ کے لئے اس زندہ و پائندہ واقعہ کی حفاظت کے لئے قرآن میں محفوظ فرما دی گئی۔ یہ ہے مہمان نوازی وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينَا وَيَتِيمًا وَ أَسِيرًا ان کو اپنے مہمانوں سے ذاتی تعلقات ان کی مہمان نوازی پر آمادہ نہیں کرتے ۔ اللہ کی محبت ہے اور وہ یہ دیکھتے نہیں کہ یہ دنیا میں معزز ہے یا غیر معزز ہے۔ وہ مہمان ہے اور اللہ کا مہمان ہے۔ مہمان ہے اور محمد رسول اللہ کا مہمان ہے، وہ اسلام کا مہمان ہے اور اس کی مہمان نوازی میں اگر اس روح سے آپ خدمت کرتے ہیں تو یہ وہ روح ہے جو اس واقعہ کے ساتھ آپ کو بھی وابستہ کرتی چلی جائے گی۔ اس واقعہ میں جس صحابی کے خلق کی بات ہو رہی ہے اس کا نام نہیں آیا پس یہ بے نام کہانی سلسلہ در سلسلہ آگے بڑھتی چلی جائے گی اس میں بہت سے اور بھی شامل ہوتے جائیں گے جو اس قسم کے اخلاق کا نمونہ دکھا ئیں گے۔ پس آنحضرت ﷺ کی نصائح پر غور کریں اور فکر کریں اور جس پیار اور گہرے درد اور جذبے کے ساتھ آپ نے اخلاق کو استوار فرمایا ہے، اخلاق کی اصلاح فرمائی ہے اور اخلاق کا مضمون انسان کو سمجھایا ہے اس پر غور کریں۔ جب سے دنیا بنی ہے اور میں پھر کہتا ہوں کہ جب سے دنیا بنی ہے ساری کائنات میں جتنے سے دنیا میں انبیاء آئے ہیں سب کے حالات پر غور کر لیں سب نبیوں نے مل کر بھی اپنی امت کے اخلاق کی ایسی اصلاح نہیں کی ہوگی جیسے محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ۔ ان کی نصیحتیں اکٹھی کر کے دیکھ لیں وہ ساری ایک جھولی میں آجائیں گی اور دوسری جھولی بھر جائے گی پھر اور جھولیاں چاہئیں ہوں گی اور حضرت محمد