خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 378

خطبات طاہر جلد 13 378 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 مئی 1994ء صحابی صبح آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے رات کیا حرکت کی تھی۔کیا بات تھی کہ اللہ تعالیٰ کو وہ بات آسمان پر بہت ہی پسند آئی اور خدا تعالیٰ نے اس کے نتیجہ میں مجھ پر ایک آیت نازل فرمائی اور وہ آیت دی تھی۔وَالَّذِينَ تَبَوَّقُ الدَّارَ وَالْإِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا اُوْتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ * وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ® (10:51) وہ اپنے نفسوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ خود غربت کا شکار ہوں اور خود تنگی میں مبتلا ہوں۔یہ وہی مضمون ہے۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيمَا وَ أَسِيرًا دوسرے رنگ میں یوں فرمایا کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو خود تنگی میں مبتلا ہونے کے باوجود دوسروں کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں۔وہ صحابی یہ بات سن کر حیران رہ گئے کیونکہ ان کے گھر واقعۂ رات ایک ایسا ہی واقعہ ہوا تھا۔اس سے پہلی رات آنحضرت ﷺ کی خدمت میں کوئی مہمان آئے اور اس زمانہ صلى الله میں غربت کا دور تھا آنحضور ﷺہ بعض دفعہ اپنے گھر میں کچھ بھی نہ پاتے جس سے خدمت کر سکیں تو تقسیم کر دیا کرتے تھے مہمانوں کو اور مسجد میں اعلان فرما دیا کرتے تھے کہ یہ مہمان آیا ہے کون ہے جو اسے اپنے گھر لے جائے۔وہ معلوم ہوتا ہے کوئی خاص ہی تنگی کے دن ہوں گے اور آواز کوئی نہ آئی۔ایک صحابی اٹھے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے دے دیں۔اس مہمان کو لے کر گھر چلے گئے اور جانتے تھے کہ گھر میں اتنا سا کھانا ہے کہ میاں بیوی کو بھی پورا نہیں آ سکتا، بمشکل بچوں کو دے کران کو سلایا جاسکتا ہے۔یہ تردد تھا اور یہ تر دداوروں کے دلوں میں بھی ہوگا لیکن اللہ نے ان کو ایک ترکیب سکھا دی اور وہ ترکیب یہ تھی کہ جا کے بیوی کو کہا کہ مہمان آیا ہے، اللہ کا مہمان ہے، محمد رسول اللہ اللہ نے یہ نعمت ہمیں عطا کی ہے۔اس کا خیال رکھنا مگر کھانا بہت تھوڑا ہے۔اس لئے مجھے یہ ترکیب آئی ہے کہ تم بچوں کو بہلا پھسلا کر سلا دو۔جب بچے سو جائیں تو پھر تم مجھے آواز دینا کہ کھانا لگ گیا ہے۔