خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 370

خطبات طاہر جلد 13 370 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 رمئی 1994ء بد اخلاقیوں کی وجہ سے اپنے لئے جہنم لیتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی جہنم میں دھکیلتے ہیں ان کی اصلاح لازما محض دور کی نصیحت سے نہیں بلکہ قریب کی نگرانی سے بھی کرنی ہوگی۔اس لئے جماعت احمدیہ کو ہر جگہ یہ چاہئے کہ وہ اصلاحی کمیٹیاں جو اس کام کے لئے میں نے مقرر کی ہیں ان کو کہہ کر ایسے بداخلاق گھروں کی نگرانی کا انتظام کریں اور انہیں بار بار پا کر نصیحت سے سمجھانے کی کوشش کریں تا کہ ہر گھر میں وہ جنت پناہ لے لے یعنی جنت پناہ لینے سے مراد میری یہ ہے کہ محمد رسول اللہ کی سنت میں ہی جنت پناہ لیتی ہے اور اس کے سائے میں آ کر جنت پلتی اور نشو و نما پاتی ہے ورنہ ہم جنت کی پناہ میں آتے ہیں تو یہ عمدا اس لئے کہہ رہا ہوں کہ وہ جنت پناہ لے لے محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت میں اور اس جنت کا سایہ پھر پھیلتا چلا جائے گا اگر وہ سنت نبوی کی جنت ہے۔یہ وہ ضروری پیغام ہے جس سے متعلق عمل میں تا خیر نہیں ہونی چاہئے۔بسا اوقات نظام جماعت تک آواز پہنچتی ہے اور کچھ دیر کے لئے گرم جوشی کا نمونہ دکھاتے ہیں پھر مدھم پڑ جاتے ہیں مگر اخلاقی جہاد ایک بہت ہی بڑا اور اہم جہاد ہے اور اسلام کے عالمگیر جہاد کا ایک لازمی حصہ ہے۔اس لئے حتی المقدور کوشش کریں کہ ایسے لوگ بچائے جائیں اور اگر بچائے نہیں جاسکتے ، پوری کوشش کے باوجود ان کو بچانا آپ کے بس میں نہیں یا آپ کی کوششیں مقبول نہیں ہوتیں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر انہیں بچانے کا فیصلہ نہیں کرتی تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس حکم کو یاد رکھیں کہ یہ شاخیں ہیں جو کائی جائیں گی پھر ان کو ساتھ لے کر آگے نہ چلیں۔پھر بہتر یہ ہے کہ ہلکے بدن کے ساتھ تیز تر سفر اختیار کریں اور ان شاخوں کو جن کو بچانے کی ہر ممکن کوشش آپ نے کی ، ان کو کاٹ کر الگ پھینک دیں اور اس کے متعلق کارروائی میں پہلے صبر کی ضرورت ہے۔کچھ عرصہ مسلسل صبر کے ساتھ ، دعاؤں کے ساتھ ، اخلاص کے ساتھ ، نفرت اور خشونت کے ساتھ نہیں، نرمی اور پیار کے ساتھ ان کو نصیحت کرتے چلے جائیں، ان کے حالات درست کرنے کی کوشش کریں۔اللہ کرے کہ ایسا ہو جائے اگر ایسا نہ ہو تو پھر ان کو کاٹ کر الگ پھینکنا ضروری ہو جاتا ہے۔یہ ایک ماؤف حصہ ہے جماعت کا، جس کا ساتھ رہنا دوسرے حصوں کے لئے بھی نقصان کا موجب بن سکتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے کس قسم کے معاشرہ کو جنم دیا۔کس قسم کے معاشرہ کی پرورش کی اور اس کی تعمیر فرمائی۔چھوٹی چھوٹی بعض نصیحتوں میں اس کی جھلکیاں ملتی ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی اے کے