خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 360

خطبات طاہر جلد 13 360 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 1994ء والا امین نہیں رہتا۔ایسا مشورہ دیتا ہے کہ جو کسی اپنے عزیز کو نہیں دے سکتا اور ایسی نگاہیں دوسروں پر ڈالتا ہے جو اپنے کسی عزیز پر نہیں ڈال سکتا۔پس یہ وہ نصیحت ہے کہ گہرائی کے ساتھ اس کے مضمون کو سمجھنے کے بعد اپنانے سے ہمارا معاشرہ حقیقۂ جنت کا نشان بن سکتا ہے۔ہماری تمام بداخلاقیوں کو دور کرنے کا راز اس نصیحت میں ہے، تمام حسن خلق اختیار کرنے کا راز اس نصیحت میں ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرو۔آنحضرت ﷺ کے متعلق حضرت عبد اللہ بن ابی طوفہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کا اپنا ملنے جلنے کا انداز کیا تھا۔فرماتے ہیں کہ تکبر نام کو بھی نہیں تھا نہ آپ ناک چڑھاتے نہ اس بات سے برا مناتے اور بچتے کہ آپ بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ چلیں۔(حدیقہ الصالحین صفحہ: 42) بعض لوگوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ کوئی غریب ساتھ چل رہا ہو تو اس سے کچھ فاصلہ رکھتے ہیں اور کئی دفعہ روز مرہ زندگی میں ہم نے دیکھا ہے ہمیشہ سے ہی ایسے واقعات دیکھنے میں آتے رہتے ہیں کہ بھرے بازار میں اگر کوئی امیر چل رہا ہو اور غریب اس کے ساتھ چل پڑے تو وہ اپنی اداؤں سے، اپنے انداز سے ایک فاصلہ بناتا ہے تا کہ دیکھنے والا محسوس کرے کہ ہم ایک نہیں ہیں اور اس طرح اس سے بات کرتا ہے کہ وقتی طور پر بات کرے اور کسی طرح پیچھا چھوٹے یہ اپنی راہ لے اور یہ جو فا صلے ہیں یہ ضروری نہیں کہ دور ہٹ کر بنائے جائیں انسانی انداز میں یہ فاصلے پائے جاتے ہیں اور دیکھنے والے صاحب فہم انسان کو دکھائی دیتا ہے۔آنحضرت ﷺ کا مرتبہ اور مقام دیکھیں اور ایک صحابی کا جس نے بڑی باریک نظر سے آپ کے معاملات کو دیکھا ہے یہ بیان سنیں فرماتے ہیں آپ بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ اس طرح چلتے تھے کہ ان کے ساتھ چلنے کو کبھی آپ نے اپنی شان کے منافی نہیں سمجھا۔مل جل کر ان کے ساتھ چلا کرتے تھے ایک ہو کر چلا کرتے تھے اور ان کے کام آتے تھے اور ان کی مدد کرتے تھے بے سہارا عورتوں اور مسکینوں اور غریبوں کی مدد کے لئے ہر وقت بستہ رہتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے تھے۔اب یہ جو آخری پہلو ہے اس حدیث کا یہ بہت ہی اہم ہے۔نیکیاں یا اس قسم کے اخلاق جن کا ذکر کیا جارہا ہے یہ دو طرح سے اختیار ہو سکتے ہیں اول چونکہ خدا نے فرمایا چونکہ محمد رسول اللہ اللہ نے ایسا کیا اس لئے ہمیں کرنا چاہئے لیکن طبیعت پر بار رہتا ہے۔