خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 351
خطبات طاہر جلد 13 جن کی صفات بیان ہورہی ہیں۔351 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مئی 1994ء ب سے پہلے فرمایا وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا کہ والدین سے احسان کا سلوک کرو۔والدین ایک قسم کے رب بن جاتے ہیں کیونکہ والدین کے ذریعے انسان دنیا میں آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے بعد سب سے پہلے والدین ہی کا ذکر ضروری تھا اور یہی کیا گیا ہے لیکن والدین کو ایسے مرتبے پر رکھا ہے جہاں فرمایا ان کے ساتھ احسان کا سلوک کرو۔خدا تعالیٰ کا جہاں تک معاملہ ہے خدا تعالیٰ کے ساتھ احسان کا سلوک ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کے احسان ہم پر حاوی ہیں اور اس میں ایک بہت لطیف مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر چہ ماں باپ تمہیں پیدا کرتے ہیں مگر احسان اللہ کا ہے جب تم ان کے ساتھ حسن سلوک کرو تو ایسا کرو کہ تمہاری طرف سے وہ احسان ان کی طرف رواں ہونے والا ہو۔ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ دعا کروان کے لئے کہ اے خدا ان سے یہ سلوک فرما اور یہ سلوک فرما كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا جس طرح انہوں نے بچپن میں میری تربیت فرمائی اور میری پرورش کی لیکن وہاں بھی یہ نہیں فرمایا کہ والدین کا احسان ہے۔احسان تو ہے اس کا انکار نہیں یہ نہ غلطی سے سمجھیں کہ نعوذ باللہ من ذلک قرآن کریم والدین کے احسان کی نفی فرما رہا ہے۔جس سیاق و سباق میں بات ہو رہی ہے وہاں یہ مضمون ہے کہ احسان اللہ ہی کا ہے اور تخلیق کے جو ذرائع اس نے پیدا فرمائے ہیں ان کے ذریعے ایک چیز پیدا ہوتی ہے اور وہ احسان کی خاطر ماں باپ ایسا نہیں کرتے۔اب آپ دیکھ لیں جو آج کل کی دنیا میں ماں باپ کے سامنے بچے سراٹھاتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں ان میں ایک یہ بات بھی ہوتی ہے کہ تم نے کون سا ہم پر احسان کیا ہے۔تم نے شادی کی تھی اپنی لذتوں کی خاطر، اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ، ہم نے تو پیدا ہونا ہی تھا نہ ہوتے تو پھر تمہیں تکلیف پہنچتی ، ہم پر کوئی احسان نہیں۔یہ ایک ایسی بات ہے جو حقیقی ہے۔میرے سامنے بعض دفعہ مغربی دنیا میں بعض لوگوں نے ذکر کیا کہ یہاں بچے ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں اور بعض دفعہ خطوں میں مشرق سے بھی بعض احمدی لکھتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے سر پھر گئے ہیں وہ بد تمیزی سے باتیں بھی کرتے ہیں کہ تم نے ہمیں پیدا کیا تمہارا کیا احسان ہے۔یہ جو مضمون ہے یہ پھر آگے بڑھتا ہے پھر ایسے سرکش خدا پر بھی ایسی ایسی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ماں باپ پیدا کرتے ہیں تو احسان کی نیت سے پیدا نہیں کرتے اس میں کوئی