خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 328
خطبات طاہر جلد 13 328 خطبه جمعه فرموده 6 مئی 1994ء آج دنیا کے مختلف ممالک میں جو بعض اہم اجتماعات ہورہے ہیں ان کے سلسلے میں سب سے پہلے صوبہ سرحد کی طرف سے درخواست آئی ہے کہ ان کا سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ کا جمعرات سے شروع ہے اور آج جمعے کے دن جاری رہ کر شام کو اختتام پذیر ہوگا اور اب وہاں غالبا اختتام کے لمحے ہوں گے، شام ہو چکی ہوگی، جماعت احمد یہ جرمنی کی مجلس شوری آج 6 رمئی بروز جمعہ المبارک شروع ہو رہی ہے اور اس سے پہلے کچھ اجتماعات تھے جن کی اطلاع وقت پر نہیں مل سکی ان کی بھی خواہش ہے کہ ان کا نام دعا کی خاطر لے لیا جائے۔ایک خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ ضلع میر پور خاص (سندھ) کا اجتماع تھا جو 28 اور 29 اپریل دو دن جاری رہا اور ایک خدام الاحمدیہ کراچی کا اجتماع تھا جو یکم مئی کو شروع ہوا۔اسی طرح مسجد احمد یہ چٹا گانگ کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے ان کی خواہش ہے کہ تمام دنیا کے احباب جماعت کو ان کے لئے دعا کی خصوصی درخواست کی جائے۔جہاں تک مجلس شوری جرمنی کا تعلق ہے آج کے خطبے میں خصوصا ان کو موضوع بنا رہا ہوں اور ان کی وساطت سے سب دنیا کو وہی نصیحتیں ہیں خصوصا اس لئے کہ امیر صاحب جرمنی نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ جہاں جرمنی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت تیزی سے نشو ونما پا رہی ہے وہاں تربیتی مسائل بھی بہت در پیش ہیں اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس جمعے میں مجلس شوری کو تربیتی مسائل پر نصیحت کریں تا کہ ہم نئی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہوسکیں۔یعنی جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوئی ہیں ان کو عمدگی کے ساتھ جیسا کہ حق ہے ادا کر سکیں۔مجلس شوری کے ذکر میں جو باتیں میں پہلے کہہ چکا ہوں اور گزشتہ سے پیوستہ خطبے میں میں نے نصیحتیں کی تھیں وہ تو سب کے لئے قدر مشترک ہیں ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے مگر جرمنی کے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند باتیں میں عرض کروں گا۔جرمنی کی جماعت یورپ میں وہ جماعت ہے جو بڑی تیزی سے مختلف اقوام میں پھیل رہی ہے اور اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا مزاج پاکستانی ہے کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں یورپین اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں داخل ہو چکے ہیں اور اس کے علاوہ افریقن اور بعض دوسری قو میں بھی مثلاً ترک اقوام، عرب، بنگالی یہ سارے ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں دلچسپی لیتے چلے جاتے ہیں اور دلچسپیوں میں بڑھتے جارہے ہیں اور ہر سال خدا کے فضل سے کافی تعداد ان میں سے احمدیت قبول کر رہی ہے۔پس یہ جو مختلف اقوام کے اکٹھا ہونے کے نتیجے