خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 325

خطبات طاہر جلد 13 325 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل 1994ء نہیں رہتا، وہ کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا اور تم اپنے ہاتھ میں لے بیٹھے ہو یعنی اسلام کا نفاذ خدا نے تمہارے سپرد کر دیا اور جیسی مکروہ عقلوں کے ساتھ تم نفاذ کرنا چاہتے ہو ویسا کرو گے، یہ اسلام نہیں ہے۔ ان لوگوں میں پاکستان کے ملانوں کی نسبت بہت زیادہ انصاف پایا جاتا ہے باوجود اس کے کہ شروع میں بڑا متشدد اور بڑا زور کے ساتھ اپنے موقف پیش کر رہا تھا، تھوڑی دیر کے اندر اندر بیٹھ گیا، اپنے ساتھیوں کو بھی اس نے کہنا شروع کر دیا یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ پس امر بالمعروف میں طاقت ہے اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے اسلوب پر ، آپ سے اس کے آداب سیکھ کر، آپ امر بالمعروف کریں اور آج قوم کو اس کی ضرورت ہے احمدیوں میں بھی امر بالمعروف کریں اور اس ضمن میں اس حدیث کا پہلا ٹکڑا اس غلط تصور کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتا۔ فرماتا ہے:لیس منا من لم يرحم صغيرنا ويوقر كبيرنا ۔ میں یہ سمجھا رہا ہوں کہ اس حدیث میں ہی وہ دفاعی والوز موجود ہیں نصیحت فرما رہے ہیں اپنے چھوٹوں پر رحم کرو اور بڑوں کی عزت کرو، پھر تمہیں حق ہے کہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو۔ اگر امر بالمعروف کا مطلب بڑوں کی بے عزتی کرنا اور چھوٹوں پر ظلم کرنا ہوتا تو حضور اس نصیحت کے ساتھ اس نصیحت کو ملا کر نہ آگے چلتے ۔ پس پہلے ہی ایک ایسی پیاری تمہید باندھ دی جس سے اگلی بات کی غلط نہی کا سوال ہی باقی نہیں رہا۔ پس جماعت احمدیہ کو امر بالمعروف اس طرح کرنا ہے کہ بڑے ہوں تو ادب کے ساتھ بات کریں۔ چھوٹے ہوں تو ان کی غلطیوں پر رحم کریں۔ اگر کسی بچے نے بال ایسے بڑھا لئے ہیں جاہلانہ طور پر، جیسا کہ یورپ میں آج کل رواج ہے اور پاکستان میں بڑے زور سے فیشن بنا ہوا ہے کہ عورتوں کی طرح گئیں بنائی ہیں تو اگر آپ کو غصہ آتا ہے تو آپ امر بالمعروف کے اہل ہی نہیں ہیں ، چھٹی کر جائیں، ایک طرف ہٹ جائیں۔ اگر آپ کو رحم آتا ہے تو پیار سے سمجھائیں ۔ اگر گلے میں زیور لٹکائے ہوئے ہیں اور وہ سمجھ رہا ہے کہ اس سے میری شان ہے تو اگر محبت اور پیار سے نصیحت نہیں کر سکتے تو ایک طرف ہٹ جائیں کیونکہ اگر پ نے ایسا نہ کیا ایک طرف نہ ہٹے اور سختی سے ظلم سے اس سے بات کی تو رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ تمہارا میرے سے کوئی تعلق نہیں رہے گا مَنْ لَمْ يَرْحَمُ صَغِيرَنَا فَلَيْسَ مِنَّا تم ہم میں سے ہی نہیں رہو گے تو ہماری طرف کیا بلاتے ہو۔ پس اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو قیامت تک اس سنت محمد آپ