خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 317 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 317

خطبات طاہر جلد 13 317 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل 1994ء ایک یہ کہ اس دنیا میں بھی تقویٰ کی زاد راہ کو لے کر نسلاً بعد نسل آگے بڑھیں اور اس دنیا میں بھی مرتے دم تک اس زادراہ کو ساتھ چمٹائے رکھیں تا کہ پھر وہ آگے ان کا ساتھ دے۔ایسی قوموں کی عزت کی ہینگی کے لئے ضمانت ہے جب تک وہ ان شرطوں کو پورا کریں اور منفی پہلو اس کا جس کا احتمال کے طور پر میں نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ زاد راہ لے کر جتنا چاہیں بڑھیں اگر وہ منزل سے پہلے ختم ہو گیا تو آپ کا گزشتہ سارا سفر ضائع گیا۔صحرا میں سفر کرنے والا اگر منزل پہ پہنچنے سے اتنی دیر پہلے پانی سے محروم ہو چکا ہے کہ اس عرصے میں بغیر پانی کے انسان زندہ نہ رہ سکے تو وہ یہ دلیل تو نہیں دے سکتا کہ اے خدا تعالیٰ میں پچاس میل یا سومیل اسی صحرا میں سفر کر کے آیا ہوں جب کہ موسم زیادہ سخت تھا تو اب تھوڑی دور منزل رہ گئی ہے اب میں کیوں زندہ نہیں رہ سکتا، گویا پانی ختم ہو گیا تو کیا فرق پڑتا ہے۔کوئی اس کی نہیں سنی جائے گی۔زادراہ کا ایک قانون ہے وہ غالب قانون ہے وہ مسافر پر قبضہ کرتا ہے اور مسافر کو اس قانون کی ماننی پڑتی ہے۔پس خوش نصیب وہ ہے جو اپنے زاد راہ کو مرتے دم تک پورا رکھتا ہے اگر بڑھاتا چلا جائے تو اس کی طاقت بڑھتی جائے گی، اس کا تقویٰ بڑھتا جائے گا اس کی عزت بڑھتی جائے گی اور اگر نہیں تو کم سے کم ایسا محروم نہ ہو کہ خدا کے نزدیک وہ عزت سے خالی ہو جائے۔پس جسے اس دنیا میں خدا کے نزدیک عزت سے خالی رہنا ہے مرنے کے بعد بھی وہ عزت سے خالی رہے گا اور قوموں کے لحاظ سے بھی یہی مضمون ہے۔پس جماعت احمدیہ کے دو سفر ہیں ایک ہر احمدی کا ذاتی سفر ہے۔جواس کی موت تک جاری ہے۔ایک ہمارا جماعتی سفر ہے، جس کے متعلق ہماری بھر پور کوشش ہے اور دلی آرزو ہے کہ یہ سفر ہمیشہ ہمیش کے لئے جاری رہے۔ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا کرتا۔ہمیں علم ہے کہ مذہبی قو میں بھی اپنے انتہائی عروج تک پہنچنے کے بعد پھر تنزل اختیار کر جایا کرتی ہیں۔مگر جن بدنصیبوں کی وجہ سے وہ تنزل اختیار کرتی ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم وہ بد نصیب نہ ہوں۔ہمارے دور میں ایک بھی ایسی بات اگلی نسلوں کے ورثے میں نہ آئے، جس میں تنزل کا خمیر پایا جاتا ہو۔اس پہلو سے میں جماعت احمدیہ کو خوب متنبہ اور ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کی تقدیران غالب قوانین سے بالا نہیں ہے۔یہ دائمی قوانین ہیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ انْقُكُمُ اور یہ قانون کہ جب کوئی قوم تقویٰ سے عاری ہو جائے تو اس کے نتائج سے بھی ضرور ہی عاری ہو جایا