خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 304

خطبات طاہر جلد 13 304 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 را پریل 1994ء ہونے لگ جاتا تھا پھر قریب آ کر مخاطب کر کے، پیار سے وہ باتیں دہرایا کرتے تھے اور اس طرح وہ کہتے کہتے چلے جاتے تھے اور واقعہ اس عرصے میں نیند ہی اچاٹ ہو چکی ہوتی تھی۔اس لئے کوشش کر کے، مصیبت سمجھتے ہوئے نہیں آنکھ کھولا کرتے تھے، بلکہ آنکھ خود بخود کھل جاتی تھی اور ان کی آوازوں کا، ان کی باتوں کا بڑا لطف آتا تھا اور اس کے مقابل پر جو سکولوں میں اور مدرسوں میں اسی زمانے میں بھی بعض ایسے لوگ تھے جو ایسے اعلیٰ انداز کے تربیت یافتہ نہیں تھے۔وہ بچوں کو آ کے شور مچا کر ، بعض دفعہ سخت کلامی کے ساتھ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے یہاں تک کہ وہ سارے ہڑ بڑا کر اٹھتے اور کہتے ہاں جی اٹھ گئے ہیں، اٹھ گئے ہیں آپ جائیں اور جاتے ہی پھر سو جاتے تھے تو کہنے کہنے کے انداز ہیں۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ایسی بات کہو جونرمی کا پہلو رکھتی ہو، دوسرا گھبرا ہی نہ جائے۔اس کو اس طرح بتاؤ کہ اس کو سمجھ آئے اور آہستہ آہستہ اپنے اندر وہ پاک تبدیلیاں پیدا کرے اور اس کو مصیبت نہ پڑ جائے۔تو مصیبت میں ڈالنا مقصود ہر گز نہیں ہے۔لا تعسروا کے میں بھی تابع ہوں اور آپ بھی تابع ہیں۔آپ بھی جب نصیحت فرمائیں سمجھا کر، پیار سے سمجھا ئیں۔یہاں تک کہ نصیحت سے پیار ہو جائے اور اس رنگ میں نہ کہیں، ایسے رنگ میں کوئی بات نہ کہیں، جس سے اس کے نفس میں ایک رد عمل پیدا ہو اور نصیحت کے نتیجے میں اچھی بات کے قریب آنے کی بجائے اس سے اور بھی دور ہٹ جائے تو اچھی نصیحت وہ ہے، جو اچھے کاموں کی طرف بھی رغبت پیدا کرتی ہے اور نصیحت کرنے والے کے لئے بھی دل میں محبت پیدا ہوتی ہے۔اس کا سب سے بڑا ثبوت حضرت اقدس محمد مصطفی ملتے ہیں۔کن لوگوں کو نصیحت کی سوچیں ذرا ، بدیوں کے کس مقام تک جا پہنچے تھے۔اس مرتبے تک بدیوں میں آگے بڑھ گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم: 42) فساد ہی فساد ہو گیا تھا اور غالب آ گیا تھا فساد۔آگ کے کنارے پر کھڑے تھے۔ان کو کھینچ کے لائے ہیں اس طرح کھینچ کے لائے ہیں کہ نیکیوں کے بھی عاشق ہوئے اور نیک بات کہنے والے کے بھی عاشق ہو گئے اور جیسی محمد رسول اللہ لہے سے آپ کی زندگی میں محبت کی گئی ہے دنیا کے کسی نبی سے کبھی ایسی نہیں کی گئی۔اگر ہے کوئی تو لا کر دکھائے۔پس یہ مضمون ہے يَسرُوا وَلَا تُعَسِرُوا بات کہو تو پیار کے ساتھ کہو، پیارے انداز سے سمجھا کے کہو ، آسان دکھا کر ان کو رفتہ رفتہ بلا ؤ اور ان پر ختی نہ کرنا۔اگر سختی کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے ان کے لئے بھی نقصان کا موجب