خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 303

خطبات طاہر جلد 13 303 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اپریل 1994ء ہوئے ہیں ہمیں بہت محنت درکار ہے، بہت اصلاحی کام کرنے ہیں اور جیسا کہ میں نے ایک حدیث آپ کے سامنے رکھی ہے اس مضمون کو آپ لے کر اگر جماعت کی اصلاح کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو اس کے لئے بھی بہت وقتوں کا سامنا ہے۔ہر قدم پر وہ شخص جس کو آپ نصیحت کریں گے اس کی انا آپ کی نصیحت کی راہ میں کھڑی ہو جائے گی۔وہ دھو کہ جس میں اس نے خود اپنے نفس کو پامال کر رکھا ہے وہ آپ کے مقابل پر کھڑا ہو گا اور اس نصیحت کا کیا فائدہ جو دل پر اثر انداز نہ ہو سکے۔پس اس سلسلے میں اور پھر اپنی اصلاح کے سلسلے میں بڑی وقتیں ہیں۔بعض لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ آپ جو جو مضمون بیان کر رہے ہیں، ہیں تو اچھے لیکن ہمیں تو مصیبت پڑ گئی ہے، ہمیں تو اپنا وجود دکھائی دینے لگ گیا ہے۔اتنا بڑا کام، اتنا مشکل کام الله ہم سے ہو نہیں سکتا۔تو ان کے لئے پیغام یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جہاں مشکل راہوں کی طرف بلایا ہے وہاں ان کو آسان کرنے کے طریقے بھی سمجھائے ہیں آپ فرماتے ہیں: يَسرُوا وَلَا تُعَشِرُوا وَبَشِرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا ( بخاری کتاب العلم حدیث نمبر: 67) کہ لوگوں کو آسانی کی طرف بلاؤ۔آسان باتیں بیان کر کے سمجھا سمجھا کر، پیار سے ان رستوں کی طرف بلاؤ، ان کیلئے مشکل نہ ڈال دیا کرو۔یہ ایک انداز نصیحت ہے جس سے قوموں کی اصلاح ہوتی ہے اور اس انداز نصیحت کو نظر انداز کر دیا جائے تو نصیحت فائدے کی بجائے نقصان پہنچا دیتی ہے۔آپ کے بچپن کی بھی کچھ یادیں ہوں گی ، میرے بچپن کی کچھ یادیں ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے صحابہ جب ہمیں نصیحت کیا کرتے تھے تو کبھی اس سے ہم بد کے نہیں کبھی اس سے دوری نہیں ہوئی بلکہ ان کی محبت ہمیشہ پہلے سے زیادہ بڑھی اور اس نسل کا جن کا صحابہ سے تعلق تھا، صحابہ نہیں بھی تھے، ان کا بھی یہی طریق تھا۔مجھے یاد ہے دولہا بھائی میاں عبد الرحیم احمد کے والد جب سندھ جاتے تھے ان کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے تو وہ ہمیں نماز کے لئے اس طرح جگاتے تھے کہ دور دور سے پہلے ہماری چارپائیوں کا چکر کاٹنا شروع کرتے تھے۔گرمیوں کے دنوں میں خصوصیت سے باہر کھلی ہوا میں سویا کرتے تھے۔اندر تو سوال ہی نہیں تھا گرمی میں سونے کا، لیکن سندھ میں کھلی ہوا کی وجہ سے مچھر کم کا شتا ہے اس لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ آدمی باہر ہی سوئے۔تو وہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی شعر پڑھتے ہوئے، کبھی درود پڑھتے ہوئے دور دور سے گھومنے لگتے تھے کہ آہستہ آہستہ اس کے کانوں میں آواز جائے اور آہستہ آہستہ نیند سے بیدار ہو، ایک دم نہ تکلیف پہنچے۔پھر وہ دائرہ تنگ