خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 302
خطبات طاہر جلد 13 302 خطبه جمعه فرموده 22 اپریل 1994 ء مرضی ہے مگر اس میں دھو کہ کوئی نہیں۔شیر حملہ کرتا ہے داؤ پیچ استعمال ہوتے ہیں مگر شیر شیر ہی دکھائی دیتا ہے گیدڑ دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔یہ میری مراد ہے کہ کیموفلاج اگر ہے تو خاص مقامات پر برمحل کیموفلاج ہے، اس میں دھوکہ بازی اور بالا رادہ کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے کیموفلاج آپ کو قدرت میں دکھائی نہیں دیتا۔تمام زندگی کی قسموں پر غور کر کے دیکھ لیں وہاں دفاعی کیموفلاج ہے۔لیکن انسان ایک ایسا جانور ہے جس نے کیموفلاج کو حملے کے لئے کثرت سے استعمال کیا ہے کہ آپ کو بڑے بڑے شریر، بہت پاکباز لبادوں میں دکھائی دیں گے اور وہ لوگوں کے مال ہتھیانے کے لئے ، مال کے معاملات میں ایسی ایسی نیک شہرت کی باتیں کرتے ہیں کہ عام طور پر لوگ بے چارے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور جہاں کسی شخص کے متعلق مجھے یہ اطلاع ملتی ہے کہ فلاں شخص جو ہے بہت ہی اچھا آدمی ہے، لوگ دس روپے پر دس روپے منافع دے رہے ہیں وہ دس پر پچاس دے رہا ہے اور بڑی نیک شہرت کا مالک ہے، اس نے بڑے لوگوں کو فائدے پہنچائے ہیں۔وہیں میں سمجھ جاتا ہوں که شخص اگر اس پہ اعتبار کرے گا تو مارا جائے گا کیونکہ یہ نیک شہرت عام دستور سے ہٹ کر ہے اور بنائی گئی ہے، بنی نہیں ہے۔خود بخو دلوگوں کی باتوں سے سن کر اس نے یہ اندازے نہیں کئے بلکہ جس شخص کی اس کے مال پر بد نیت ہے اس کے سامنے خود اس نے اپنے ثبوت پیش کئے ہیں اور اپنے نقشے کھینچے ہیں۔تو اس لئے ہر وہ شخص جو دنیا کو بے شر دکھائی دیتا ہے بسا اوقات یہ اس شخص کی شرارت ہے، اس شخص کا فساد ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے شر بنا کر دنیا کو دکھا رہا ہوتا ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ اس تعریف کے اوپر کوئی ایسی تعریف کا پہرہ بٹھا دیا جائے جس میں غلطی کا امکان نہ رہے۔تو آپ نے فرمایا کہ بے شر ہونا تبھی درست ہے اگر تم شروالی باتوں سے ہجرت کر کے ان باتوں کی طرف حرکت شروع کر دو جو بے شر ہیں۔جب تک تم بے شر نہیں ہوتے دنیا کیسے تمہارے شر سے محفوظ ہوسکتی ہے۔پس یہ مضمون ہے جسے حضوراکرم ﷺ بیان فرما رہے ہیں کہ المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده مسلمان تو وہی ہے جس کے شر سے مسلمان بچ جائیں، زبان کے شر سے بھی اس کے ہاتھ کے شر سے بھی۔وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ اور مہاجر وہ ہے جو اس چیز سے ہجرت کر جائے جسے اللہ نا پسند فرماتا ہے اور منع کرتا ہے۔دوسری حدیث جو میں آج آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جس دور میں داخل