خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 298

خطبات طاہر جلد 13 298 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اپریل 1994ء پس اس پہلو سے آپ کو مسلم بننا ہے اور مسلم بننا ہو گا کیونکہ دنیا کے امن کا مسلم سے تعلق ہے۔دنیا کا امن آج حقیقت میں اس اسلام سے وابستہ ہے جس کی تعریف آنحضرت ﷺ نے یہاں فرمائی۔اس میں نمازوں ، عبادتوں، زکوۃ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔اس میں دو عملی حالتوں اور اندرونی کیفیتوں کا ذکر ہے اور حقیقت میں اندرونی کیفیات کی طرف نمایاں اشارہ ہے اس کے نتیجے میں بعض عملی حالتیں پیدا ہوتی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إلى مَا مَتَعْنَابِةٍ اَزْوَاجًا مِّنْهُمُ (الحجر:(89) کہ تو اپنی نظریں، خدا نے جو جوڑا جوڑا نعمتیں لوگوں کو عطا فرمائی ہیں، ان کی طرف یونہی بے کار نہ دوڑایا کر، حرص اور لالچ کے ساتھ اپنی نظروں کو ان چیزوں کی طرف لمبانہ کیا کر۔یہ بے وقری کی بات ہے ، خدا پسند نہیں کرتا۔تو جس کے اندر سے یہ حرص مٹ جائے کہ کسی کی اچھی چیز دیکھے تو اسے کھینچ کے اپنا بنانے کی کوشش کرے، اس معاملے میں وہ بے شر ہو جاتا ہے اور اگر یہ اندرونی جذبہ نہ ہو اور یہ اندرونی اصلاح نہ ہو چکی ہو جس کا قرآن کریم کی اس آیت سے تعلق ہے جس کی تلاوت کی ہے، تو ایسا شخص کبھی بے شرنہیں ہوسکتا۔پس اندرونی طور پر پہلے رجحانات کی اصلاح ضروری ہے اور رجحانات کی اصلاح میں بڑی محنت کرنی پڑتی ہے، بہت دقتیں پیش آتی ہیں اور بسا اوقات انسان خود اپنے اندر کے معاملات کو نہیں دیکھ رہا ہوتا اور غیر کے معاملات کو سمجھنے کے دعوے کرتا ہے۔اس کو یہ نہیں پتا کہ میرے اندر جوانا تھی اس نے مجھے کس کس چکر میں ڈال رکھا ہے۔میرے اندر کے بت ہیں جو مجھے کیا کیا دھو کے دے رہے ہیں ان سے بے خبر رہتا ہے اور غیر بے چارے نے خواہ کوئی بات نہ بھی سوچی ہو اس کی نیت پر حملہ کرنے میں بہت تیزی دکھاتا ہے۔پس یہ جہالت کی باتیں ہیں۔آنحضرت ﷺ نے جس پہلو سے آپ کو مسلمان بنے کی ہدایت فرمائی ہے اس پر آپ غور کریں تو جب تک اندرونی طور پر آپ اپنے نگران نہ بن جائیں، اپنی سوچوں پر پہرے نہ بٹھا دیں، جب تک اپنی ہر خواہش اور تمنا پر ایک تقویٰ کا نگہبان مقرر نہ کر دیں اس وقت تک غیر آپ کے شر سے محفوظ نہ ہے، نہ ہوسکتا ہے اور جہاں تک دنیا کا تعلق ہے وہ بے تکلفی کے ساتھ ، پورے اطمینان کے ساتھ آپ کے مسلمان ہونے کا فتوی نہیں دے سکتی۔پس غانا میں اگر نیک نامی ہوئی ہے تو اس حدیث کے اس پہلے حصے سے اس کا تعلق ہے۔وہاں ایک لمبے عرصے سے لوگوں نے دیکھا کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے کبھی کسی کو کوئی برائی نہیں