خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 273

خطبات طاہر جلد 13 273 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1994ء سے تجھے چھوڑ کر بھاگ جاتے۔فَاعْفُ عَنْهُمْ پر ان سے عفو کا سلوک فرما۔وَاسْتَغْفِرُ لَهُمُ ان کے لئے بخشش طلب کر۔وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ اور ان سے مشورہ کیا کر۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ لیکن فیصلہ تو نے کرنا ہے۔ان کے مشورے کا مطلب یہ نہیں کہ جو وہ کہیں وہ تو کرتا چلا جا۔فیصلہ تیرے سپرد ہے جب تو فیصلہ کرے گا تو پھر ان مشورہ دینے والوں پر تیرا تو کل نہیں، اللہ پر توکل ہوگا کیونکہ اللہ کی خاطر ، اسی کی عطا کردہ فراست سے تو ایک نتیجے تک پہنچے گا اور پھر مومنوں پر تو کل نہیں بلکہ اللہ پر توکل کرنا ہے۔اس میں مجلس شوریٰ کی روح اور اس کا گہرا فلسفہ بیان فرما دیا گیا۔اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكَّلِينَ اور اللہ تعالیٰ تو کل کرنے والوں سے بہت محبت رکھتا ہے۔اس آیت کے تمام پہلوؤں پر گفتگو تو اس وقت پیش نظر نہیں ہے کیونکہ گزشتہ رمضان میں درس کے موقع پر یہ آیت بھی زیر بحث آئی تھی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر میں نے روشنی ڈالی تھی مگر کوئی آیت بھی ایسی ہو نہیں سکتی جس کے تمام پہلو کسی کے اختیار میں ہوں کہ وہ بیان کر سکے۔ہر دفعہ جب دوبارہ تلاوت ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی نیا مضمون ذہن میں آجاتا ہے، بعض دفعہ نہیں آتا کیونکہ عام تلاوت کے وقت ہر آیت پر ٹھہر ٹھہر کر غور کا موقع نہیں ملتا مگر ویسے میرا تجربہ ہے کہ جب بھی کسی آیت کو موضوع بنانا ہو تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس کا کوئی نیا پہلو ذہن میں نہ آیا ہو اور یہ قرآن کریم کی ہر آیت کی ایک شان ہے کہ وہ کوثر ، جس کا حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا گیا تھا قرآن کی ہر آیت سے وہ کوثر بن جاتی ہے اور انہی معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: ( در مین فارسی صفحه : 89) ایں چشمہ رواں کہ مخلق خداد ہم یک قطره ز بحر کمال محمد است ہے تو قطرہ ، وہ دریا کیسے بن گیا۔یہ وہی مضمون ہے کہ ہر آیت کریمہ ایک دریا کا منبع بن جاتی ہے۔اس سے ایک علم و عرفان کا دریا پھوٹ سکتا ہے۔پس چونکہ یہ آیت بہت سے لطیف اور وسیع پر مشتمل ہے میں اس وقت اس حصے پر پہلے روشنی ڈالتا ہوں جس کا تعلق مومنوں کے اکٹھے اور مضامین پر ایک جان ہو جانے سے ہے۔گزشتہ جمعہ میں جو آیت پڑھی تھی وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ