خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 246
خطبات طاہر جلد 13 246 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء آخری پیغام دنیا کی غلامی ہی ہے اللہ کی محبت اور اللہ کا عشق تو بہانہ ہے ان کو بعض منافع دکھائے جاتے ہیں۔ بعض ان کو ایسے مقاصد بتلائے جاتے ہیں جن سے ان کی دراصل دنیا پانے کی خواہش پوری ہوتی ہے، آخری صورت میں اللہ ان کو نہیں ملتا نہ ان باتوں سے مل سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو ذکر فرمایا اور زندگی بھر کیا اس ذکر کو چھوڑ کر کون سا بہتر ذکر ہے جو آج کا کوئی پیر یا ساری کائنات کے پیرمل کے بھی بنا سکتے ہوں۔ جو یہ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ذکر کے علاوہ بھی ایک ذکر ہے جو میں تمہیں دکھاتا ہوں۔ ان عبادتوں کو ترک کر دو الله جو محمد رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیں اور یہ ذکر کرو وہ جھوٹا ہے، ذریت شیطان ہے، وہ اللہ کی طرف سے پیغام لانے والا ہے ہی نہیں ۔ مگر جب مذاہب بگڑتے ہیں جب ایک ایسی جاہل قوم کو جس کو حقیقت میں مذہب کے فلسفہ سے آگاہی نہ ہو۔ مذہب کی روح کو نہ سمجھتے ہوں ، جب ان کو عارضی طور پر اور مصنوعی طور پر نیک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسلام کے چرچے وہاں پھیلائے جاتے ہیں تو ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو دنیا دار ہیں ان کو دین کی حقیقت کا علم نہیں ، ان کو دین کی روح کا علم نہیں ۔ دوسری طرف دین کے چرچے ہو رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ضرور عجیب و غریب قسم کی تحریکات جنم لینے لگ جاتی ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک ایسے کھیت میں جس کا مالی رکھوالا نہ ہو، آپ بہت کھاد ڈال دیں۔ جب کھاد ڈالیں گے تو اس میں گندی جڑی بوٹیاں ہی نکلیں گی۔ بے مقصد اس میں نباتات پیدا ہوں گی اور وہ جو کھاد ہے وہ فائدے کی بجائے نقصان کا موجب بن جائے گی۔ پس ایسی سوسائٹیاں جہاں مذہب کا چرچا ہو جائے اور حقیقی مذہب سکھانے اور مذہب کے آداب بتلانے کے لئے کوئی منظم طریق ایسا نہ ہو جو خدا نے عطا کیا ہو بلکہ مختلف پیر فقیر اپنے ڈھکوسلے پیدا کرنے شروع کر دیں تو وہ سوسائٹی کثرت کے ساتھ مکروہات سے بھر جاتی ہے۔ وہاں مذہب بیچنے کے شوق میں کئی قسم کی تحریکات پیدا ہوتی ہیں اور ذکر الہی دنیا کے حصول کا ذریعہ بنالیا جاتا ہے۔ صلى الله پس اہل پاکستان کو میں خصوصیت سے متنبہ کرتا ہوں کہ اگر ذکر کرنا ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہے۔ اس کے سوا کوئی ذکر نہیں ہے، سب جھوٹ ہے۔ خدا ملتا ہے تو اسی ذکر سے ملتا ہے جو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی کا ذکر ہے۔ جس پیر کا ذکر اس سے پیچھے رہ جاتا ہے وہ کوتاہ پیر ہے