خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 235
خطبات طاہر جلد 13 235 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء بزرگوں کا جواس اجلاس میں شامل ہوئے ہیں، اس پس منظر میں ساری دنیا کی جماعتوں کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو پس منظر میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ملک کو ہمیشہ ترقی کی اعلیٰ منازل پر جاری و ساری رکھے گا اور جماعت احمد یہ ہمیشہ پوری وفا کے ساتھ ان کی خدمت کے تمام تقاضے پوری کرتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو برکت دے اور جماعت احمدیہ کے لئے یہ اجتماع آئندہ سال کے لئے مزید برکات پیچھے چھوڑ جائے۔باقی اس کے علاوہ بھی ہیں کچھ۔ساؤتھ انڈین جماعتوں کے ریجنل اجتماع کی خبر ملی ہے مجلس اطفال الاحمدیہ جرمنی کا پندرھواں سالانہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے اور ساؤتھ انڈین جماعتوں کے اجتماع میں بتایا گیا ہے کہ کثرت کے ساتھ غیر از جماعت دوست شریک ہوں گے اور مضمون ہوگا Islam the Religion of Peace یعنی اسلام امن کا مذہب ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ نائیجیریا کا جلسہ سالانہ بھی آج یکم اپریل سے شروع ہو رہا ہے، تین اپریل تک جاری رہے گا اور جماعت جرمنی کی مختلف کلاسز کا میں ذکر کر چکا ہوں جو کہ بوسنین کے سلسلے میں ہیں۔ان سب کو میرا واحد پیغام یہی ہے جو سب کے لئے برابر اہمیت رکھتا ہے کہ ذکر الہی کے جس موضوع پر میں ایک عرصے سے خطاب کر چکا ہوں اور یہ اسی کی غالبا آخری کڑی ہے اس پر پورا دھیان دیں اور غور کریں اور اس حقیقت کو دلنشین کر لیں کہ تمام مذاہب کا آخری مقصد اللہ سے بندے کی محبت پیدا کرنا ہے اور اس سچی محبت کا ایک اثر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا انسان جو اللہ سے محبت کرنے لگے وہ اس کی مخلوق سے لا زما محبت کرتا ہے اور اسی کا نام Peace ہے۔تمام عالم میں امن کے لئے مختلف کوششیں ہو رہی ہیں مختلف دعاوی جاری ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اب امریکہ دنیا میں امن کی کوشش کرے گا۔کہا جاتا ہے کہ چین سے وہ لوگ اٹھیں گے جو دنیا میں امن قائم کریں گے۔کبھی مشرق والے دعوے کرتے ہیں، کبھی مغرب والے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ امن کی حقیقت کو سمجھے بغیر اور سمجھائے بغیر نہ وہ امن قائم کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، نہ دنیا کو اطمینان دلا سکتے ہیں کہ ہم اپنے دعوے میں سچے ہیں اور امن کی راہ اس کے سوا کوئی راہ نہیں ہے کہ انسان اپنے خالق کے ساتھ امن میں آجائے۔خالق کے ساتھ امن کیسے نصیب ہو سکتا ہے؟ جب انسان خالق کے مزاج کے رنگ اختیار کرنا شروع کرے، ویسا ہی بننے کی کوشش کرے، وہ ادا ئیں اپنا لے جو ادائیں خالق کو پسند