خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 231

خطبات طاہر جلد 13 231 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 / مارچ 1994ء عطا فرمایا ہے ورنہ اچھے بھلے انگریزی دان بھی ہیں مگر وہ بات بنتی نہیں۔لیکن دوسری زبان سے اپنی زبان میں نسبتا ترجمہ آسان ہوتا ہے جن کو جرمن زبان اچھی آتی ہے۔وہیں پیدا ہوئے ہیں۔وہ بچے جوار دو بھی جانتے ہیں جرمن زبان میں بہت اچھا فر فر ترجمہ کرتے ہیں لیکن اردوان کی نسبتا کمزور ہے جب جرمن زبان سے اردو ترجمہ کریں تو ان کو وہ طاقت نہیں ہے وہاں جا کے رہ جاتے ہیں تو اس لئے میری خواہش ہے کہ فرنچ سپیلنگ احمدی اردو بھی سیکھیں اور اس وجہ سے نہیں کہ یہ پاکستان کی زبان ہے اس لئے کہ اس زمانے کے امام کی زبان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اردو سپیکنگ بنایا اگر چہ پنجابی زبان مادری کہلا سکتی ہے مگر اردو ہی کو آپ نے استعمال فرمایا ہے۔پس فرانسیسی اردو سیکھیں اور جہاں تک خدمت دین کا تعلق ہے جب دونوں زبانیں اکٹھی ہوں گی پھر خدمت کی اہلیت ہوگی اور جو انگریز ہیں ان کو بھی اردو سیکھنی چاہئے اس نقطہ نگاہ سے کہ دین کی خدمت ہوگی۔اس خیال کو دل سے کاٹ کر پھینک دیں کہ یہ پاکستانی اور ہندوستانی زبان ہے۔آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اور دنیا میں بھی یہ پھیلی ہوئی ہے۔مقصد صرف اتنا ہے اور یہی خالص مقصد رہنا چاہئے کہ وقت کے امام کی زبان ہے اور اگر ہم اس میں مہارت حاصل کریں گے تو اپنی زبان میں دین کی بہتر خدمت کرسکیں گے۔اس کے علاوہ پھر واپس سیالکوٹ جاتا ہوں (ایک دومنٹ باقی ہیں یا شاید نہ رہے ہوں باقی ) سیالکوٹ کی جماعتوں کو میں نے متنبہ کیا تھا آپ بہت بلند مقام سے اتر کے یہاں پہنچی ہوئی ہیں جہاں آج ٹھہری ہوئی ہیں۔بڑے بڑے عظیم صحابہ کرام ، بڑے بڑے خدام سلسلہ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور ساری دنیا پر نظر ڈال کر دیکھ لیں کوئی دنیا کا حصہ نہیں ہے جہاں احمدیت کی تعمیر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے سیالکوٹیوں کو خدمت کی توفیق نہ ملی ہو۔نئی نئی جماعتیں بھی بنانے والوں میں یہ اول رہے اور اس وقت ساری دنیا میں سیالکوٹ کے سابق بسنے والے پھیل چکے ہیں اور پاکستان میں بھی جو گجرات سے آتے ہیں یا باہر کے نو آباد علاقوں سے آتے ہیں ان کا بھی پرانا پسِ منظر سیالکوٹ ہی ہے۔عجیب بات ہے معلوم ہوتا ہے کہ انسان پیدا کرنے میں ظاہری لحاظ سے بھی یہ ضلع بہت زرخیز تھا اور قابل آدمی پیدا کرنے میں بھی بڑا زرخیز تھا۔تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اپنا دوسرا وطن قرار دیا۔پس اس تعلق کو یا درکھیں آپ کو دوسرا وطن کہا گیا ہے۔وطن بن جائیں ان صحابہ