خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 229
خطبات طاہر جلد 13 229 خطبه جمعه فرموده 25 / مارچ 1994ء ہمارا ذ کر بھی کر دیں۔دوسرا جماعت ہائے احمد یہ ضلع سیالکوٹ ہیں۔پاکستان کی اضلاع کی جماعتوں میں سیالکوٹ کو ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ان کے ہاں خدام اور اطفال کا ضلعی اجتماع 24 مارچ سے شروع ہوا تھا اور آج اختتام کو پہنچا ہے۔پہنچ چکا ہو گا غالبا سوائے اس کے کہ انہوں نے رات کی مجلس لگانی ہو اور اس خطبے میں اپنا نام سنا ہوتو بہر حال میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بیٹھے ہوں گے اس وقت اور سن رہے ہوں گے۔ان دونوں کو میری پہلی نصیحت تو یہی ہے کہ ذکر الہی کے لئے نماز ایک برتن ہے اگر ذکر الہی دل میں پیدا ہو تو نماز سے انسان الگ ہو ہی نہیں سکتا اور اگر یہ برتن ہے تو پھر اسے ذکر سے بھریں اور خالی نہ رہنے دیں۔یہ دو پہلو ہیں جن کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اگر اللہ کی محبت ہے دل میں پیار ہے اور ذکر سے دل بسا ہوا ہے تو نمازوں سے غفلت کیسے ہوسکتی ہے کیونکہ نمازیں تو ذکر کا معراج ہیں۔نماز میں آنحضرت ﷺ نے جس طرح خدا کو یاد کیا اور جس جس پہلو سے یاد کیا اور جسم نے کس طرح روح کے ساتھ مطابقت کی۔یہ سارا مضمون دہرایا جاتا ہے ہر نماز کے وقت آنحضرت صلى الله کی وہ نماز دہرائی جاتی ہے جو خدا کی خاطر آپ پڑھا کرتے تھے۔اب اس کے دو پہلو ہیں اول تو یہ کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا، اگر ذکر کا دعوی سچا ہے نماز کے بغیر یہ دعوی جھوٹا ہوگا کیونکہ ذکر الہی کرنے والوں میں سب سے بلند تر ذکر الہی کرنے والے حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی تھے اور آپ نے اپنے آپ کو نماز سے منتقی انہیں سمجھا۔جھوٹ بولتے ہیں وہ صوفی یا وہ متقی بننے والے جو کہتے ہیں ہمیں ظاہری تتبع کی کیا ضرورت ہے ہمارے دل میں ذکر ہے بس یہی کافی ہے۔اگر یہ بات ہوتی تو آنحضرت ﷺ نمازوں میں اس قدر انہماک کیوں کرتے اور اتنا انہماک جو تکلیف تک جا پہنچتا تھا۔پس اس خیال کو دل سے نکال دیں کہ نماز کے بغیر آپ کا دعوی سچا ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب نماز پڑھیں تو اس کو ذکر سے بھریں کیونکہ نماز میں برتن اکثر خالی رہتا ہے اور بہت کم ہیں جن کو کوشش کے بعد یہ توفیق ملتی ہے کہ ان کی نمازوں میں دودھ بھرنے لگتا ہے ورنہ اکثر نمازوں کا حال تو ان کھیتوں کی طرح ہے جن کی جڑوں میں بیماریاں لگ جاتی ہیں تو سٹے بنتے بھی ہیں مگر خالی۔ہمارے ہاں ایک دفعہ احمد نگر میں چاول کے کھیتوں میں بیماری آئی تھی۔سٹے سیدھا سر کھڑا اونچا کیا ہوا تھا اور تھوڑی دیر تو مجھے پتا نہیں لگا میں نے کہا بڑے اچھے اچھے سٹے نکلے ہوئے ہیں لیکن جب وہ جھکے ہی نہیں پھر مجھے