خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 222
خطبات طاہر جلد 13 222 خطبہ جمعہ فرموده 25 / مارچ 1994ء فرماتے ہیں:۔دو دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں۔جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔اصل غرض ذکر الہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس طریق پر وہ گنا ہوں سے بچار ہے گا۔“ ذکر الہی کا استغفار سے ایک اور بڑا گہرا تعلق ہے جس تعلق کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں بیان فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ان کو نہیں سوجھ سکتیں جو ان حالات سے گزرے نہ ہوں۔جوان حالات سے گزرتے ہیں وہی اس معرفت کو پاتے ہیں اور وہی ہیں جو بیان بھی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ایک ایسا شخص جو خدا کو ہر وقت اپنے سامنے دیکھ رہا ہوا سے غلطی کی جرأت ہی نہیں ہو سکتی۔جو ہر وقت سامنے دیکھے کوئی نگران میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے اسے کیسے تو فیق مل سکتی ہے یا جرات ہو سکتی ہے کہ وہ اس کی نافرمانی کرے جس کو وہ مقتدر ہستی سمجھتا ہے، سب سے غالب اور پکڑ میں سب سے سخت بھی سمجھتا ہے۔تو خدا سے غیو بیت ہے جو گناہ کرواتی ہے اور مومن بھی ہر حال میں ہر وقت خدا کے سامنے نہیں رہتا یعنی خدا کے سامنے تو رہتا ہے لیکن اپنی دانست میں خدا کے سامنے نہیں رہتا۔اس لئے گناہ غیبوبیت کا نام ہے۔دراصل خدا سے دوری کا نام ہی گناہ ہے، وہ دوری عارضی ہو تو عارضی گناہ ہے، وہ دوری مستقل بن جائے تو ہمیشہ کا گناہ ہے ساری زندگی گناہ بن جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو نظم ہم اکثر سنتے ہیں سبحان من یرانی “اس میں یہی مضمون ہے ہر نعمت کے ذکر کے بعد یہ فرمایا ہے وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔پاک ہے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ہے۔پس اس نظم کو پڑھیں اور بار بار پڑھ کے دیکھیں پھر اس فقرے کی سمجھ آئے گی کہ: دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں میں جو کہہ رہا ہوں میں اس حالت سے گزررہا ہوں کہ ہر وقت میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور اس کے جلال کے سامنے میں زندگی بسر کر رہا ہوں۔میری مجال کیا ہے کہ میں کوئی گناہ کروں۔پس اس حال کے مطابق میں تمہیں کہہ رہا ہوں کہ ذکر الہی کا بڑا فائدہ اور بہت بڑی منفعت اس بات میں ہے کہ انسان خدا کی روشنی کے سامنے زندگی بسر کرتا ہے اور اس سے اس کے