خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 221
خطبات طاہر جلد 13 221 خطبه جمعه فرموده 25 / مارچ 1994 ء لوگوں کے دل میں خدا کا خیال ہی نہیں گزرتا تو اس کے مطابق خدا کی شان مغفرت اس طرح ظاہر ہوتی ہے فرماتا ہے میں تمہارے سے ایسی بخشش کا سلوک کروں گا کہ کسی انسان کا خیال بھی نہیں جا سکتا۔جہاں کسی انسان کا خیال نہیں جاسکتا تھا تم نے مجھے یاد کیا۔اب میں تم سے وہ سلوک کروں گا کہ کسی انسان کا تمہارا بھی ، خیال نہیں جا سکتا کہ میں کیسے کیسے تم سے مغفرت کا سلوک فرماؤں گا۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس ضمن میں انسان اگر اپنے گناہوں پر نظر ڈال کر دیکھے تو پورے گناہوں پر اس کا احاطہ ہی نہیں ہو سکتا۔زندگی کا اکثر حصہ ایسا ہے جس میں کوئی نہ کوئی گناہ سرزد ہوتے ہی رہتے ہیں۔پس وہ ساری چیزیں جو نظروں سے اوجھل تھیں وہاں ان کے لئے استغفار کر ہی نہیں سکا۔جب استغفار کرتا ہے تو بعض موٹے موٹے گناہ ، بعض بڑی بڑی غلطیاں اور خاص طور پر وہ جو تازہ ہوں اور ان سے بھی بڑھ کر وہ جن کے پکڑے جانے کا خطرہ ہو وہاں تو انسان خوب استغفار کرتا ہے لیکن جہاں دنیا کی نظر میں نہ پکڑا گیا اور خدا کی پکڑ کی نظر باقی ہے وہاں دل میں وہ جوش ہی نہیں پیدا ہوتا۔اکثر لوگ عموما استغفار کے لئے اس وقت لکھتے ہیں جس سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ جب ابھی دنیا کی پکڑ کا خوف ان کے سر پر تلوار کی طرح لٹک رہا ہوتا ہے اور ایسا گھبراگھبرا کر پھر خط لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے اور اگر ان کو یقین ہو جائے کہ دنیا معاف کر دے گی تو پھر وہ جو اللہ کے لئے بخشش کی بے حد طلب پیدا ہوئی ہے وہ نرم پڑ جائے گی۔یعنی شکر ہے الحمد للہ بات ٹل گئی اب اللہ معاف فرمائے نہ فرمائے یعنی منہ سے تو نہیں کہیں گے لیکن اپنی نفسیاتی کیفیت کا جائزہ لیں تو بات تو یہی بنتی ہے اس کے سوا بات کوئی نہیں ہے۔تو ان کے لئے بھی دعا تو کی جاتی ہے لیکن یہ بھی دعا ہوتی ہے اللہ ان کو مستقل اپنی مغفرت کی طرف متوجہ فرمالے اور وہ گناہ جن میں دنیا کی پکڑ سے بیچ کر نکل چکے ہیں جو ماضی کا حصہ بن چکے ہیں ان میں بھی یہ خدا کی طرف مغفرت کے لئے مائل ہوں اور استغفار کریں۔بہر حال ذکر الہی کا جو بازار سے تعلق تھا اس کے متعلق میں نے آپ کے سامنے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی جو حدیث رکھی ہے اس میں ذکر الہی کے تعلق میں بہت ہی گہرا اور پیارا مضمون ہے اور اس کا بخشش سے بھی تعلق ظاہر فرمایا گیا ہے کہ ذکر الہی کا بخشش سے ایک تعلق ہے۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس اس ضمن میں پیش کرتا ہوں۔آپ